جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں امام مسجد کو یہودیوں کیخلاف بولنا مہنگا پڑ گیا

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

کوپن ہیگن (آئی این پی ) ڈنمارک میں امام مسجد پر یہودیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام میں پولیس میں شکایت درج ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کے ایک امام کی اس ویڈیو پر غم و غصہ پایا جاتا ہے جس میں امام نے خطبہ جمعہ کے دوران یہودیوں کو قتل کرنے کی بات کی۔اس سلسلے میں امام منظر عبداللہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔

انھیں خطبہ جمعہ کے دوران ایک ایسا بیان کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا جسے یہود مخالف مانا جاتا ہے۔یہودی برادری کے ایک رہنما نے اس کے رد عمل میں کہا کہ ان کے الفاظ ایک دھمکی ہے۔الفاروق نامی مسجد نے اتوار کے روز اس مذکورہ خطبہ جمعہ کو یوٹیوب اور فیس بک جیسی سماجی ویب سائٹس پر پوسٹ کیا تھا، حالانکہ یہ خطبہ 31 مارچ کو دیا گیا تھا۔واشگٹن میں واقع ‘مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ’ نے تقریبا نصف گھنٹے کے اس خطبے کے بعض حصوں کا بعد میں ترجمہ کیا تھا۔ویڈیو میں خطیب عبداللہ سیاہ کپڑے کے سامنے کھڑے ہیں، اسی طرح جس طرح کا القاعدہ یا دوسرے جہادی گروہ بیک ڈراپ استعمال کرتے ہیں۔اپنی تقریر کے دوران وہ کہتے ہیں کہ جلد ہی خلافت کا قیام ہوگا، یعنی ایسی حکومت جس میں شرعی قوانین کی بالا دستی ہوگی،یعنی ایسی حکومت جس میں شرعی قوانین کی بالا دستی ہوگی وہ مسلمان برادری کے اتحاد کے لیے جہاد کرے گی اور یرو شلم کی مسجد اقصی کو سیہونی غلاظت سے آزاد کرائے گی۔’یہودی کمیونٹی کے ایک مقامی رہنما ڈین روزبرگ نے مقامی اخبار کو بتایا: ‘ہمیں تشویش ہے کہ کمزور اور جلدی جھانسے میں آجانے والے افراد اس طرح کی تبلیغ کو یہودیوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کا کھلا پیغام سمجھ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…