جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں کیمائی حملے کے بعد معصوم بچوں کی کیا حالت تھی ؟

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

ادلب(این این آئی)شام کے شہر ادلب کے علاقے خان شیخون میں ایک ماہ اور چند روز قبل بشار الاسد کی فوج نے نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تو پوری دنیا میں اس وحشیانہ کارروائی کے المناک مناظر دیکھے گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ٹی وی نے خان شیخون میں کیمیائی حملے سے متاثر ہونے والے بچوں کی نئی تصاویر نشرکی ہیں۔

ان تصاویر میں کیمیائی حملے کا نشانہ بننے والے بچوں کو ہانپتے زندگی اور موت کی کشمکش میں دکھایا گیا ہے۔خان شیخون میں رہنے والے ان بد قسمت افراد پر ڈھائی جانے والی قیامت پر پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں۔ اس ننگی جارحیت کا دکھ ان ماؤں سے پوچھا جائے جن کے ننھے منھے لخت ہائے جگر انتہائی المناک اور کربناک انداز میں بشارالاسد کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے۔چار اپریل 2017ء کو خان شیخون میں ڈھائی جانے والی قیامت سے متاثرہ بعض بچوں کی تصاویر فوٹو گرافر آدم حسین نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیں۔ دل ان مناظر کو دیکھنے کی تاب رکھتا ہے اور نہ ہی آنکھیں ان کی صداقت پر یقین کرتی ہیں۔ مگر یہ کھلی حقیقت ہے کہ کیمیائی حملے میں بچوں اور بڑوں سب کو ایک ایسی المناک مصیبت سے دوچار کیا کہ جس کے نتیجے میں ان کی موت بھی انتہائی تکلیف دہ ہوگئی تھی۔ بچوں کے فریادی چہرے، ٹرکوں میں لڑکھڑاتے بیسیوں ننھے منھے جسم، سانس کے اکھڑنے سے لڑتے، موت سے مزاحم اور زندگی کو ترستے دکھائی دیتے۔بشار الاسد کی فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر جب کیمیائی حملہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں سانس لینا دشوار ہوگیا۔ ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں مقامی آبادی میں تشنج اور سانس کی غیرمعمولی تکالیف شروع ہوئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ نڈھال ہوتے اور تڑپتے ہوئے جان دے دیتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…