جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کلبھوشن کی پھانسی، بھارتی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا 

datetime 10  مئی‬‮  2017 |

دی ہیگ/نئی دہلی /اسلام آباد(آئی این پی)بھارتی جاسوسکلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارتی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا ،عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بھارتی درخواست پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اس سے قبل بھارتی میڈ یا نے دعویٰ کیا تھا کہ عالمی عدالت برائے انصاف نے پاکستانی ملٹری کورٹس کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو دی جانے والی موت کی سزا پر سٹے دیدیا ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی عدالت برائے انصاف کے ترجمان نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی سزا کے حوالے سے بھارتی درخواست موصول ہوئی ہے تاہم ابھی اس پر نہ تو کسی قسم کی پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی سٹے دیا گیا ہے ۔اس سے قبل بھارتی میڈ یا کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بھارتی درخواست پر پاکستانی ملٹر ی کورٹ کے فیصلے پر سٹے دے دیا گیا ہے ۔دوسری جانب اب بھارتی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی عدالت میں مقدمے کی شنوائی کا آغاز 15مئی سے ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو تک رسائی کی 16درخواستیں مستردی کی گئیں اور یادیو کے اہل خانہ کی پاکستان کے لیے ویزا درخواست ابھی تک منظور نہیں ہوئی ۔واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لئے بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا ہے ۔واضح رہے پاکستان کی فوجی عدالت نے یادیو کو جاسوسی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے معاملے میں پھانسی کی سزا سنائی تھی،بھارتی جاسوس کلھبوشن یادیو پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا اور اس نے اعتراف کیا تھا کہ اسے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان بھجوایا تھا،بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ،بھارتی بحریہ کے آفیسر نمبر 41558 کمانڈر کلبھوشن یادیو المعروف حسین مبارک پٹیل کو 3 مارچ 2016 کو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…