بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

میری اور ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ،معروف شخصیت او ر اہم ادارے کے سربراہ کی پریس کانفرنس، حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان میڈیاالیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی( پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم نے کہا ہے کہ میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ، پیمرا ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، وزیراعظم چیف جسٹس ، آرمی چیف ہمیں تحفظ فراہم کریں ، کاروائی نہ ہونے پر پیمرا کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں ، جان کی پرواہ نہیں ، دھمکی آمیز کالز کی تحقیقات کرائی جائیں ،

ابصار عالم نے کہا کہ بعض چینلز پیمرا کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ، کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائی کورٹس کے پاس جا چکا ہے ، ہم جو بھی ایکشن لیتے ہیں اس پر حکم امتناع آجاتا ہے اسلئے آرڈرز کی وجہ سے پیمرا کام نہیں کر سکے گا ، پیمرا اور قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔وہ پیر کویہا ں پریس کا نفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا کے ادارے کو بلاجواب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، تمام ادارے آئین کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں ، نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کے تحت پیمرا کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیمرا آئین اور قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، پیمرا ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، وزیراعظم ، چیف جسٹس اور آرمی چیف کو نوٹس لینے کیلئے خط لکھا ہے ۔ چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے دھمکی آمیز کال کی آڈیو بھی میڈیا کو سنائی ، ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا کیلئے موجودہ صورتحال میں کام کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے ، بعض چیلنجز پیمرا کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ، میری اور میرے ساتھیوں کی جان کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کام بہتر انداز میں سر انجام دینے کیلئے وفاق سے مدد مانگی ہے ، زیر التواء کیسز نمٹانے کیلئے سپریم کورٹ کو بھی خط لکھا ہے ، عدالت سے استدعا ہے کہ زیر التوا درخواستیں جلد نمٹائی جائیں ،

تمام ادارے آئین اور قانون کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں ۔ ہم جو بھی ایکشن لیتے ہیں اس پر حکم امتناع آجاتا ہے ، پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائی کورٹس کے پاس جا چکا ہے ۔ ابصار عالم نے کہا کہ ایک سال 5ماہ سے میری وزارت پر بھی الزامات لگتے رہے ، پیمرا کے اختیار کو محدود کردیا گیا ، وزیراعظم ، آرمی چیف دھمکیوں کا نوٹس لیں ، کاروائی نہ ہونے پر پیمرا کیلئے کام کرنا مشکل ہو جائے گا ، میرے خلاف باتیں کرنے والوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں ، میں نے گزشتہ سال 82لاکھ ٹیکس ادا کیا ، میرے دو بھائی تحریک نظام مصطفی کے دوران شہید ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے کہا سٹے آرڈرزکی وجہ سے پیمرا کام نہیں کر سکے گا، ہم اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہیں ، جان کی پرواہ نہیں ، دھمکی آمیز کالز کی تحقیقات کرائی جائیں ، کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ، ہمیں کونے سے لگا دیا گیا ہے ، وزیراعظم ، چیف جسٹس ، آرمی چیف ہمیں تحفظ فراہم کریں ، ہمیں آوازیں بدل کر دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، ہمیں نہیں پتہ کہ دھمکیاں دینے والے شخص کون ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…