اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

موسم گرما میں گاڑی کے ٹائر زیادہ کیوں پھٹتے ہیں اب آپ ٹائروں کے پھٹنے سے خوفناک حادثات کو کیسے روک سکتے ہیں۔۔حیرت انگیز گُر سامنے آگئے

datetime 9  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹـرنگ ڈیسک)گرمیوں کے موسم میں گاڑیوں کے ٹائر پھٹنے سے حادثات کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس حوالے سے عرب ملک ابو ظہبی کے ٹریفک حکام نے اپنے شہریوں کے لئے انتہائی اہم وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گرمیوں میں اپنی گاڑیوں کے ٹائروں کی باقاعدہ تواتر سے انسپکشن کرتے رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

ابو ظہبی ٹریفک حکام کی طرف سے وارننگ جاری ہونے کے بعد کار اور ٹائر کمپنیوں کی طرف سے بھی ہدایت نامے جاری کئے گئے ہیں جن میں گرمیوں میں شہریوں کو کار کے ٹائر وں کے حوالے سے حفاظتی تدابیر اور ان کی دیکھ بھال کے حوالے سے ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔ ابو ظہبی کی ایک معروف ٹائر کمپنی کے نمائندے یوسف کیانگو کا کہنا تھا کہ ڈرائیورز کو چاہئے کہ وہ 50ہزار کلومیٹر کے بعد گاڑی کے ٹائر بہر صورت تبدیل کر دئیے جانے چاہئیں۔ ٹائروں میں ہوا کا دبائو ہفتے میں دو بار باقاعدگی کے ساتھ چیک کیا جانا ضروری ہے۔ کم ہوا ٹائروں میں گاڑی کی کارکردگی اور بریک کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور اس سے فیول بھی زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ہوا کے کم یا زیادہ ہونے سے حادثات بھی رونما ہو سکتے ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ ـٹائروں میں ہوا کا دبائو ہدایت کے مطابق ہو۔ٹائر کمپنی کے جاری ہدایت نامہ کے مطابق شہریوں کو چاہئے کہ وہ ہر 5ہزار کلومیـٹر کے بعد گاڑی کے اگلے ٹائر پیچھے اور پچھلے آگے لگا دینے چاہئیں اس کی وجہ یہ ہے کہ گاڑی کے اگلے ٹائر زیادہ استعمال اور گھستے ہیں چنانچہ ان کی پوزیشن تبدیل کرنے سے چاروں ٹائر برابراستعمال ہونگے اور ان کی عمر ایک جتنی ہو گی بصورت دیگر اگلے ٹائر بہت جلد تبدیل کرنے پڑ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…