بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی سفارتخانے میں غائب ہونیوالی پاکستانی شخص کی بھارتی بیوی کی گمشدگی کا معمہ حل،لڑکی کہاں ہے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

سلام آباد (آئی این پی)پاکستانی شہری کی محبت میں گرفتار بھارت سے آکر پاکستان میں نکاح کرنے والی خاتون ڈاکٹر عظمی کو بھارتی ہائی کمشن میں محصور کردیا گیا، شوہر نے بیگم کی رہائی کیلئے تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کو درخواست دیدی۔ ملائیشیا میں پروان چڑھنے والی محبت عظمی ٰکو بھارت سے پاکستان کھینچ لائی۔نئی دہلی کی شہری ڈاکٹر عظمی نے بونیر کے رہائشی طاہر سے پسند کی شادی کی تھی ۔

ڈاکٹر عظمی یکم مئی کو واہگہ بارڈر سے پاکستان آئی جبکہ انکا نکاح 3مئی کو ہواتھا۔ نکاح کے بعد بھارتی خاتون کاغذات لیکر شوہر کے ہمراہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشن گئی تھی ۔ مگر بھارتی ہائی کمشن نے انہیں باہر آنے سے روکدیا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون کے شوہر طاہر کا کہنا تھا کہ عظمی کے بھائی نے بھارتی ہائی کمشن میں عدنان سے ملنے کا کہا تھا۔ بھارتی ہائی کمشن نے موبائل فون بھی واپس نہیں کئے ، جب بھارتی ہائی کمشن حکام سے سے اپنی اہلیہ کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر عظمی یہاں نہیں۔میں نے بیوی کی بازیابی کیلئے طاہر نے تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کو درخواست دی ۔تھانہ سیکرٹریٹ کی پولیس نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمشن سے رابطہ کیا گیا ہے جس کے جواب میں انہوں نے ڈاکٹر عظمی کی ہائی کمشن میں موجودگی کی تصدیق کردی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس معاملے پر پولیس سے نہیں بلکہ دفتر خارجہ کے ذریعے سے ہی بات ہوگی۔ترجما ن دفتر خارجہ اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عظمٰی کے معاملے پر بھارتی ہائی کمشن سے رابطہ ہوا ہے بھارتی ہائی کمشن نے تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ انکے پاس ہے ۔ بھارتی ہائی کمشن کا کہنا ہے کہ جو بھی بات ہوگی دفتر خارجہ کے ذریعے ہوگی۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ کے معاملے پر بھارتی ہائی کمشن سے رابطے میں ہیں، ڈاکٹر عظمیٰ سے متعلق پیر کو پیشرفت کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…