جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی آرمی چیف کی تبدیلی ”راحیل شریف“ کے مشورے سے ہوئی

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی آرمی چیف کی تبدیلی جنرل (ر)راحیل شریف کے مشورے سے عمل میں لائی گئی ہے۔ اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ اتحاد کی باقاعدہ فوج کو تشکیل دینے سے قبل مملکت میں ایک ایسا متحرک اور نوجوان آرمی چیف چاہتے تھے جس کے ساتھ ایک جانب تو اچھا ورکنگ ریلیشن قائم ہوسکے اور دوسری جانب وہ خود سعودی افواج کو فرنٹ سے لیڈ کرنے کے قابل ہو ۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے

سعودی فرمانروا بھی  سابق سعودی آرمی چیف لیفٹنٹ جنرل عید الاشلاوی کو آرام دینا چاہتے تھے کیونکہ یمن کے ساتھ جاری لڑائی میں بھی ان کی جانب سے کئے گئے غلط فیصلوں سے مملکت کے مفادات کو براہ راست نقصان پہنچا تھا جبکہ ملک میں بھی دہشت گردوں بالخصوص داعش کے خلاف بروقت اقدامات اٹھانے میں وہ ناکام رہے تھے جس کی وجہ سے بہت سا جانی نقصان بھی ہوا۔پاکستان کے ایک قومی اخبارکے ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شاہ سلمان سابق آرمی چیف سے ملک میں ایک اقلیتی فرقے کے خلاف ہونے والے آپریشنز اور ان کے نتائج پر کئی بار ان کی سرزنش بھی کرچکے تھے لیکن ان کی طرف سے کسی بھی قسم کی نئی سٹریٹجی کو سامنے نہیں لایا گیاجس کے بعد بالاخر یہ فیصلہ کیا گیاکہ ان کی جگہ فہد بن ترکی کو نیا آرمی چیف مقرر کیا گیا جس کی سفارش جنرل(ر) راحیل شریف نے کی تھی سعودی شاہ کی جانب سے اس اقدام سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان معاملات میں اسلامی عسکری اتحادکے سربراہ کی رائے کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور اسی لیے کچھ عرصہ قبل ان کے مشورے پر ایران کو بھی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔۔شاہ سلمان کی جانب سے اس اقدام سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان معاملات میں سعودی عسکری اتحاد کے سربراہ کی رائے کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور اسی لئے کچھ عرصہ قبل ان کے مشورے پر ایران کو بھی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…