بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آزاد کشمیرریاست کے لوگ بلند شرح خواندگی پر نازضرور کریں لیکن ۔۔! صدر آزادکشمیر نے قوم کو خوبصورت مثال دیدی

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

راولاکوٹ (آئی این پی) صدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد ریاست کے لوگ جہاں بلند شرح خواندگی پر نازں ہیں وہاں ہمیں گرتے ہوئے معیار تعلیم پر پشیمانی بھی ہونی چاہیے ۔ کوالٹی ایجوکیشن کے لیے نجی شعبہ اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ۔ کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت راولاکوٹ کا ممتاز ادارہ پرل ویلی پبلک سکول بلند معیار تعلیم کی شاندار مثال ہے ۔

سرکاری شعبہ کے سکولوں ، کالجوں اور یونیوسٹیوں کو اس عظیم ادارے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ سرکاری شعبے کے سکولوں میں ٹھیکہ سسٹم بد دیانتی اور اخلاقی پستی کا بد ترین نمونہ ہے ۔ سرکاری اساتذہ کے بچوں کا نجی سکولوں میں زیر تعلیم ہونا پرائیویٹ سکولوں کی بہتر کار کردگی کا واضح ثبوت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں راولاکوٹ میں پرل ویلی پبلک سکول کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیئرمین کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن (KEF) محترم ظفر قادر ، ٹرسٹی بورڈ کے ممبران لیفٹیننٹ جنرل (ر) توفیق رفیق ، بریگیڈئر (ر) جمیل خان ، چوہدری سعید ، ایگزیکٹو افسران والدین ، عمائدین شہر کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ معیار اور کردار پر ہمیشہ خصوصی توجہ دی جائے ۔ یہی دو اوصاف ہیں جو آپ کو معاشرے میں ممتاز کرتے ہیں۔ نوجوان نسل معیار اور کردار پر کبھی سمجھوتہ نہ کرے ۔ اقربا پروری ، رشوت اور سفارش کے ذریعے اگر آپ معاشرے میں کوئی مقا م ، ملازمت یا عہدہ حاصل کر بھی لیں ۔ تمام عمر آپ کا ضمیر مطمئن ہو گا نہ آپ دوسروں کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ معیار میں بگاڑ ، خرابی ، کرپشن اور بالآخر انارکی کا باعث بنتے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے پرل ویلی پبلک سکول اور کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بانیوں ، جنرل رحیم ، سردار حبیب اور بھائیوں کو خراج تحسین اور عقیدت پیش کیا ۔

جنہوں نے راولاکوٹ میں بین الاقوامی معیار کا تعلیمی ادارہ قائم کیا ۔ جس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات نے مسلح افواج ، شعبہ طب ، بینکنگ سیکٹر ، کارپوریٹ سیکٹر اور دیگر شعبوں میں اپنی جگہ بنائی اور ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے اپنے والدین ، قبیلے اور علاقے کا نام روشن کر رہے ہیں۔ َ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ان ہونہار سپوتوں پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے لوگ آزاد یں ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں کو بھارتی غلامی اور سنگین ظلم و ستم کا سامنا ہے ۔ بحیثیت کشمیری ہمیں اپنے بہن بھائیوں کو آزاد کرنے کا فریضہ ادا کرنا ہوگا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی ۔ سوشل میڈیا اور ٹویٹر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی کوئی تصویر ، وڈیو اور زرد ناک کہانی کو مہذب دنیا تک پہنچائیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے طلباء و طالبات اور نوجوانوں نے اپنی آنکھیں اپنی جانیں تحریک آزادی کے لیے قربان کر دی ہیں۔

آزاد کشمیر خصوصاً پرل ویلی سکول کے طلباء و طالبات مقبوضہ کشمیر کے طلباء و طالبات کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کریں۔ اس موقع پر پرل ویلی پبلک سکول کے ننھے منے طلبا و طالبات نے رنگ برنگے پروگرام ، ملی نغمے ، ٹیبلوز ، ڈرامہ ، اور خوبصورت گیت پیش کئے ۔ صدر آزاد کشمیر نے بچوں کے پروگراموں کی تعریف کی ۔ چیئرمین کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن محترم ظفر قادرنے خطاب کرتے ہوئے سکول کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں اور کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کشمیر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بانیوں سردار حبیب ، جنرل رحیم ، ایم آر خان ، اور کرنل نصیر کو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں اس معیار کے سکول ہونے چاہیں۔ اختتام پر صدر آزاد کشمیر نے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں امتیازی اسناد ، میڈلز اور ٹرافیاں تقسیم کیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…