جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حملے کے بعد جب پاکستان نے جواب دیا تو افغانستان چیخ اُٹھا،پاکستان ہمارے ساتھ یہ کیوں کررہاہے؟سنگین الزام عائد

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان نے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولدک پر گولہ باری کا الزا م عائد کردیا اور پاکستانی ناظم الامور کی وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز افغان بارڈر فورسز کی جانب سے پاکستان میں مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنایا گیا تھا تاہم افغان فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری سے 11 عام پاکستانی شہری شہید جب کہ 46 افراد زخمی ہوئے تھے

جس کے بعد پاکستانی دفترخارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا جب کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے بھی ہاٹ لائن پر رابطہ کیا اورفائرنگ کا سلسلہ تھم گیا تاہم دونوں اطراف تاحال کشیدگی برقرار ہے اور سرحد پر سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے پاک فوج کے تازہ دم دستے بھی باب دوستی پر پہنچ چکے ہیں جب کہ پاک فوج کے 3 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرحد کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔پاک افغان سرحد کے دونوں جانب فورسزمورچہ بند ہوگئے ہیں جب کہ سرحد سے ملحقہ 4 کلومیٹر کے علاقے کو نوگوایریاقراردے دیاگیاہے ۔واضح رہے کہ بھارت کے ایماءپرافغان فوج نے پاکستانی سرحد پر جارحیت کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان پرالزام عائدکیاہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ افغانستان کوبھارت کی مکمل آشیربادحاصل ہے ۔جس کاواضح اظہاروزیردفاع خواجہ محمدآصف نے بھی کیاہے کہ  افغانستان اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے، یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ دونوں ممالک میں ہم آہنگی پیدا ہو لیکن دوسری جانب مثبت جواب نہیں مل رہا، چمن میں کارروائی کابل اور دہلی کی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، دہلی اور کابل کا گٹھ جوڑ مغربی سرحد پر ہم سے محاذ آرائی میں مصروف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…