ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

ایرانی صدر حسن روحانی اور پاسداران انقلاب میں ٹھن گئی،تشویشناک صورتحال

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

تہران (آئی این پی)ایرانی صدر حسن روحانی نے پاسداران انقلاب پر الزام عائد کیا کہ وہ بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کے ذریعے اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں رواں ماہ مقررہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے درمیان مناظرے کے دوسرے دور میں بھی الزامات کا تبادلہ ہوا۔ گزشتہ روز دوپہر ہونے والا یہ مناظرہ سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا۔

ایران میں صدارتی انتخابات 19 مئی کو ہوں گے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے قدامت پرست حریفوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے مغرب کے ساتھ طے پانے والے ایرانی نیوکلیئر معاہدے پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ روحانی نے پاسداران انقلاب پر الزام عائد کیا کہ وہ بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کے ذریعے اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔صدارتی انتخابات کے چھ امیدواروں کے درمیان ہونے والے مناظرے کے دوران روحانی نے کہا کہ متعلقہ اداروں نے بیلسٹک میزائلوں کو نمائش کے لیے پیش کیا اور ان میزائلوں پر نعرے بھی تحریر کر دیے جو کہ نیوکلیئر معاہدے پر روک لگانے کی ایک کوشش تھی۔ روحانی نے قدامت پرست امیدوار محمد باقر قالیباف پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے نیوکلیئر معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے والی ٹیم کو بدنام کرنے کے لیے تہران میں پروپیگنڈا مہم چلائی۔مناظرے میں صدر حسن روحانی کے علاوہ ان کے نائب اسحاق جہانگیری ، ایرانی مجلس خبرگان رہبری کے رکن ابراہیم رئیسی ، تہران کے میئر محمد باقر قالیباف اور دو سابق وزرا مصطف میر سلیم اور مصطف ہاشمی طبا نے شرکت کی۔ابراہیم رئیسی نے روحانی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے نیوکلیئر معاہدے میں بعض ایسے نکات پر دستخط کیے جو دیگر فریقوں کو ایران کی تنصیبات کو ہدف بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں. یہ نکات ایران کے حوالے سے بری چھاپ کے حامل ہیں۔

علاوہ ازیں رئیسی نے روحانی حکومت کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اقتصادی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ایرانی بینکوں پر عائد پابندیاں نہیں اٹھائی گئیں۔ادھر روحانی نے نیوکلیئر معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ “آج جو لوگ نیوکلیئر معاہدے کا اعتراف کر رہے ہیں وہ کل تک مذاکرات کے دشمنوں کی صف میں تھے۔ ان لوگوں نے مذاکرات کاروں سے غداری کی اور انہیں بدترین اوصاف سے متصف کیا”۔روحانی کے مطابق تیل اور پابندیوں کے حوالے سے کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ عوام یہ جانیں کہ صدارتی امیدوار نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے کیا کچھ کریں گے اور دنیا بھر کے ساتھ بالخصوص اس معاہدے کے حوالے سے کس طرح نمٹیں گے۔

دوسری جانب تہران کے میئر محمد باقر قالیباف نے روحانی حکومت کے ایک وزیر پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنی بیٹی کے واسطے اٹلی سے کپڑوں کی اسمگلنگ کی ایک ڈیل کی منصوبہ بندی کی اور ان کپڑوں کو غیر قانونی طریقے سے ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر ہی ملک میں داخل کروا دیا۔قالیباف نے “شہریوں کے حقوق” کے منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس کی تشہیر روحانی نے اپنی سابقہ انتخابی مہم کے دوران کی تھی اور ملک میں مختلف قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں حقوق دینے اور ملک میں سیاسی زندگی میں شامل کرنے کے لیے بتدریج کام کیا جائے گا۔ قالیباف کے مطابق ان وعدوں میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…