بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے اگر پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ پرویزاشرف نے لرزہ خیز انتباہ کردیا

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے نوازشر یف سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوازشر یف کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ‘پیپلزپارٹی والوں اور (ن) لیگ والوں کے لئے الگ الگ قانون نہیں ہونا چاہیے ‘مجھ پر بے روز گاروں کو نوکر یاں دینے پر مقدمہ چل رہا ہے کیا بے روزگاروں کو نوکر یاں دینا جر م ہے ؟بھارت صرف دھمکیاں دے رہا ہے

افواج پاکستان اور پاکستانی قوم دشمن کا ہر وقت مقابلہ کر نے کیلئے تیار ہے بھارت کسی بھول کا شکار نہ رہے تو اچھا ہوگا۔ احتساب عدالت میں پیشی کے بعداور پر یس کا نفر نس سے خطاب کر تے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستانی کے اندرونی حالات اور خصوصاً پڑوسی ممالک سے کشیدگی کے معاملات قابل تشویش ہیں ،ان معاملات کو سنبھالنے کیلئے اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے ۔ بد قسمتی سے حکمران آپس میں دست و گریبان ہیں اور سیاسی شخصیات ملکی سیاست کو جس نہج پر لے آئے ہیں جہاں پر رواداری ور رکھ رکھا ؤ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افوج اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے الرٹ ہیں اور پوری قوم ان کی پشت پر ہے ،ہماری بہادر افواج اور قوم نے ملک کی حفاظت کے لئے لازوال قربانیاں دی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے حکومت خارجہ محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور پڑوسیوں کے برتاؤ کی علامات اچھی نہیں ۔ بھارت کی طرف سے پاکستانی طلبہ کو واپس بھیجنا افسوسناک ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ہم اسی دوہرے معیار کی بات کرتے ہیں کہ جب آپ دوستیوں کے دعویدار ہوں تو ریاست کے معاملات ایسے نہیں چلتے اور ایسے میں ذاتی دوستیاں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں اور ریاست کے مفادات کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا رویہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں

اگر بھارت کو کوئی گھمنڈ ہے کہ وہ پاکستان کو گزند پہنچا سکتا ہے تو وہ یہ بات اپنے دل سے نکال دے ،پاکستانی اپنی زمین کی انچ انچ کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقا رعلی بھٹو ، آصف علی زرداری ہوں یا محترمہ بینظیر بھٹو پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے او ریہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ اگر پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم عدالت میں آ سکتے ہیں تو پھر سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے ۔

ایک وزیر اعظم کے خلاف الگ اور دوسرے وزیر اعظم کیلئے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک طرف وزیر اعظم پر غریب عوام کو درجہ چہارم کی نوکریاں دینے کا الزام ہے جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم کا کیا معاملہ ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن جو الزام لگایا جارہا ہے میں نے وہ جرم کیا ہی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…