جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب اورامریکہ کے درمیان اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی معاہدہ طے کیا ہونے جارہا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مہینے سعودی کے دورے سے قبل واشنگٹن میں حکام ہتھیاروں کی فروخت کے اربوں ڈالر کے معاہدوں پر کام کررہے ہیں جن میں سے کچھ معاہدے نئے ہوں گے اور کچھ پہلے سے ہی پائپ لائن میں موجود ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے بتایاکہ صدر ٹرمپ کے پہلے غیر ملکی دورے کی منزل سعودی عرب ہے جو اس جانب اشارہ ہے کہ وہ اپنے اس علاقائی اتحادی کے ساتھ رابطوں کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔امریکہ سعودی فوج کی ہتھیاروں کی ضرورت پوری کرنے کا ایک سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے اور حالیہ برسوں میں وہ اسے اربوں ڈالر مالیت کے ایف 15 لڑاکا جیٹ طیاروں سے لے کر کنٹرول اینڈ کمانڈ کے نظام تک فراہم کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کی پیداوار بڑھا کر اپنی معیشت کو ترقی دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔نئے متوقع معاہدوں میں دفاعی فضائی میزائل نظام ٹی ایچ اے اے ڈی شامل ہے، جسے جنوبی کوریا میں استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔اس کے علاوہ سیٹلائٹ سے منسلک کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام سی ٹو بی ایم سی پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذرائع نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ کثیر المقاصد بحری جنگی جہازوں اور ان پر نصب کیے جانے والے جدید آلات کا ایک معاہدہ بھی زیر غور ہے جس کی منظوری امریکی وزارت خارجہ سن 2015 میں پہلے ہی دے چکی ہے۔ اس کی مالیت کا تخمینہ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہوگا جسے امریکہ کئی عشروں میں جدید آلات سے لیس جنگی جہاز فراہم کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…