جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشیرمیں پاکستانی چینلزکے علاوہ سعود ی چینلزبھی جذبہ آزاد ی کوابھاررہے ہیں ،بھارت کااورایک الزام

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری مسلمانوں کے جذبہ آزاد ی کی وجہ سے گھبراہٹ کاشکارہے اوراب انڈیانے الزام عائدکیاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی ٹی وی چینلزکے علاوہ سعودی چینلزبھی جذبہ آزاد ی کوابھارنے میں کرداراداکررہے ہیں ۔بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی میں خواتین اور نوجوانوں کے فعال کردار کا اعتراف کرنے والے ”را“ کے سابق سربراہ کے بیان کے بعد بھارت مزید پریشانی کاشکارہے

بھارتی اخبار”دی ٹائمز آف انڈیا “کی رپورٹ کے مطابق کی ر پورٹ کے مطابق الزام لگایاگیاہے کہ سعودی علماکی تقاریراورپاکستانی چینلزمقبوضہ کشمیرکے شہریوں کے گھروں  میں دیکھے جارہے ہیں جس کی وجہ سے جذبہ آزادی کومزیدتقویت مل رہی ہے ۔ان الزامات کوسچاثابت کرنے کی کوشش میں یہ حوالہ دیاگیاہے کہ معروف اسلامی سکالرڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی اور بھارت مخالف ایجنڈے میں شامل 50سے زائد پاکستانی اور سعودی چینلز کشمیر میں پرائیویٹ کیبل نیٹ ورکس کے ذریعے ضروری کلیئرنس کے بغیر چلائے جا رہے ہیں اورکشمیری عوام بھارتی چینلزکے بجائے ان پاکستانی ا و رسعودی چینلزکوزیادہ دیکھتے ہیں ۔اس بارے میں سری نگرکے کیبل نیٹ و رک کے ایک ایک کیبل آپریٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ صرف سری نگر میں ہی 50ہزار سے زائد پرائیویٹ کیبل کنیکشنز ہیں جوصرف پاکستانی اور سعودی چینلز دکھاتے ہیں ۔اس نے مزیدبتایاکہ پرائیویٹ آپریٹرز سعودی سنہ، سعودی قرآن ، العربیہ ، پیغام ،ہدایت ، نور ، مدنی ، سحر ، کربلا، حادی ، اے آر وائے ،کیو ٹی وی ، میسج ، فلک ، جیو نیوز، اے آر وائے نیوز ، ڈان نیوز سمیت دیگر سعودی اور پاکستانی چینل نشر کر رہے ہیںحالانکہ سیٹیلائٹ ٹیلی ویژن سروس پرووائیڈرز کے ذریعے رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی جبکہ ان میں سے کسی چینل کو بھی ملک کے کسی دیگر حصے میں دکھانے کی اجازت نہیں ہے لیکن بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود یہ چینلزمقبوضہ کشمیرکے عوام میں بہت مقبول ہیں جبکہ ان چینلزکی وجہ سے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کومزیدابھاراجارہاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…