بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں علی اصغر خان کاقتل،مقتول کی اہلیہ کے بارے میں حیرت انگیزانکشافات،برطانوی سفارتخانے نے بڑا قدم اُٹھالیا

datetime 27  اپریل‬‮  2017 |

مانسہرہ (آئی این پی )اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے نے گزشتہ سال قتل ہونے والے برطانوی شہری علی اصغر خان قتل کی تفصیلات طلب کرلیں۔ سفارت خانے نے مقتول کی بیوہ کی جانب سے لکھے گے خط میں تعارفی خط (کور لیٹر)لکھا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ قتل مقدمہ میں نامزد دو ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے اور گرفتار ملزماں کے خلاف عدالت میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کےئے گے ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی نے انصاف کے لےئے باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر کے ماہ میں ضلع ہریور میں تھانہ گندف کی حدود میں برطانوی شہری علی اصغر خان اور کھلابٹ رہائشی ملک افتخار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ مقتول علی اصغر کے اہل خانہ کے مطابق علی اصغر خان اور اس زوجہ فرزانہ خان جو کہ برطانوی شہری ہیں چھٹیاں گزارنے پاکستان آئے تھے کہ یہ واقعہ پیش آگیا ۔ دستیاب معلومات کے مطابق واقعہ میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا تھا جس میں چار گرفتار ہوئے جبکہ دو تاحال گرفتار نہ ہوسکے اور دو کو عدالت نے ضمانت دے دی ہے۔ علی اصغر خان کے اہل خانہ کے مطابق مقتول کی اہلیہ برطانیہ کی سابقہ امرئیگریش آفسیر ہیں جن پر واقعہ کے انتہائی برے اثرات پڑے مرتب ہوئے ہیں اور وہ برطانیہ واپس جا کر ٹراما کا شکار رہی ہیں جہاں پر ان کا علاج جاری ہے۔ فرزانہ خان نے گزشتہ دونوں اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے کی وساطت سے صوبہ خیبر پختوں کے انسپکٹر جنرل پولیس کو خط لکھا ہے اور اس خط میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کے قتل پر انصاف کی متلاشی ہیں اور اس سلسلے میں حکومت پاکستان ، خیبر پختوں اور خیبر پختوں پولیس کا تعاون چاہتی ہیں ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ پولیس اس واقعہ کی جدید انداز میں تفیش کرئے، خط میں دو گرفتار ملزماں کو ضمانت ملنے اور دو کی ابھی تک گرفتاری نہ ہونے پر بھی تفتیش کا اظہار کے گیا ہے

اور کہا گیا ہے کہ پولیس ایسے انداز میں تفتیش کرئے کہ ملزماں اور اگر ان کے کوئی حمایتی جن کے ایماء پر واردات کی گی ہو کیفر کردار تک پہنچ سکیں۔ دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق پاکستانی کمیونٹی نے برطانیہ میں باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا ہے او ر اس سلسلے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطے کرنے کے علاوہ حکومت پاکستان کو خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…