بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان کی شہریت رکھنے والے ا رکان پارلیمنٹ بسم اللہ جان اورآیات اللہ جان کی پاکستانی شہریت ختم کرنے کےلئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آبادہائیکورٹ میں افغانستان کی شہریت رکھنے والے رکن قومی اسمبلی بسم اللہ اورسینیٹرآیات اللہ جان کی پاکستانی شہریت ختم کرنے کےلئے درخواست دائرکردی گئی ہے ۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق اسلا م آبادہائیکورٹ میں ناصرالحق نامی پاکستانی شہری نے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائرکی جس میں موقف اپنایاگیاکہ رکن قومی اسمبلی بسم اللہ جان اور سینیٹر آیات اللہ جان کی شہریت افغانستان کی ہے

درخواست میں کہاگیاہے کہ یہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے اوریہ د ونوں ارکان پارلیمنٹ اپنی افغانستان شہریت چھپانے پرصادق اورامین نہیں رہے جس کی وجہ سے یہ عوامی نمائندگی رکھنے کاحق کھوچکے ہیں  ۔لہذاعدالت عالیہ سے استدعاہے کہ ان دونوں کومجرم قراران کی پاکستانی شہریت کومنسوخ کی جائے ۔عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری خارجہ، چیف الیکشن کمشنر، سیکر ٹری سیفران، چیئرمین نادرا، ڈی جی آئی بی، ایم این اے بسم اللہ جان اور سینیٹر آیات اللہ جان کو بھی فریقین بنایاگیاہے ۔درخواست کے ساتھ دونوں ارکان پارلیمنٹ کی افغان شہریت کے بارے میں ثبوت بھی ساتھ پیش کئے گئے ہیں ۔واضح رہے آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی غیرملکی شہری پاکستان میں رکن پارلیمنٹ منتخب نہیں ہوسکتاجبکہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں قراردیاہے کہ کوئی بھی ایساشخص جوپاکستان کے علاوہ کسی اورملک کی شہریت رکھتاہووہ بھی پاکستان میں عوام کانمائندہ بننے کاحق نہیں رکھتاہے اورسپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد مختلف جماعتوں بشمول ن لیگ کے کئی رہنمائوں کواہم عہدوں سے ہٹایاجاچکاہے ۔پاکستان میں دہری شہریت کے حامل افراد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے رکن نہیں بن سکتے اوراگروہ انتخاب کے د و ران اپنی شہریت کوچھپائے رکھیں توآئین کے آرٹیکل 62اور63کی روسے وہ صادق اورامین نہیں رہتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…