بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما کیس میں شریف خاندان کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے موکل پر ہی بجلیاں گرادیں،حیرت انگیزانکشاف

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پاناما کیس میں شریف خاندان کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ عدالت کے روبرو قطری خط اپنے موکل کی ہدایت پر سر بمہر عدالت میں پیش کر دیا ‘پہلے سے طے شدہ مدت تک شریف خاندان کی وکالت کی جس کیلئے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی ۔اکرم شیخ  نے پاناما کیس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔

بدھ کے روزاپنے ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے اکر م شیخ نے کہا کہ پاناما کیس میں کلائنٹ کی ہدایت تھی کہ حمد بن جاسم نے اس شرط پر یہ خط دیا ہے کہ اسے کھولا نہیں جائے گا اور ریکارڈ کے ساتھ عدالت کی تحویل میں دیا جائے اس کے بعدیہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ اسے کیسے دیکھتی ہے۔ حسین نواز نے اپنی فیملی کی موجودگی میں مجھے یہ ہدایت دی اور میں نے اپنے کلائنٹ کی ہدایت کی روشنی میں خط عدالت کو پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طے شدہ مدت کیلئے شریف خاندان کی سپریم کورٹ میں وکالت کرنی تھی، 7 نومبر سے 9 دسمبر تک محدود مدت کیلئے شریف خاندان کی وکالت پہلے سے طے شدہ بات تھی ۔ انہوں نے مقدمے کیلئے کوئی فیس نہیں لی کیونکہ جب میں اپنے دوستوں سے فیس نہیں لیتا تو ایک ایسے شخص سے جو میرے بیٹے کا کلاس فیلو رہا ہے اس سے فیس کیسے لے سکتا ہوں۔اکرم شیخ نے پاناما کیس کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔ یہ فیصلہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ کے بعد آنا چاہیے تھا ۔فرض کریں جے آئی ٹی کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ جائیدادوں کی خریدو فروخت میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے تومستقبل کے2 چیف جسٹس صاحبان کی بات کمپرو مائز ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…