بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عابد شیرعلی اورڈاکٹر عاصم کی ڈیل کاحیرت انگیزانکشاف

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی) ڈاکٹرعاصم حسین نے کہاہے کہ عابد شیر نے مجھے جو بھی کہنا ہے میرے سامنے آکر کہیں پھر ان کے بارے میں بتاؤں گا۔کراچی کی احتساب عدالت میں جے جے وی ایل میں 17 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی سماعت ہوئی۔ سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹرعاصم کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ کیس کے حوالے سے ہمیں تاحال کوئی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں اس ریفرنس میں جان بوجھ کر ڈاکٹرعاصم کا نام بھی شامل کیا گیا ہے

ڈاکٹرعاصم حسین کے وکیل نے کہا  کہ ہمارے اعتراضات کی وجہ سے ہی ڈاکٹرعاصم و دیگر پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی۔ وکیل نے کہا کہ دستاویزات کی عدم فراہمی کی درخواست پہلے سے دائر کی جاچکی ہے اس درخواست پر مزید دلائل دینا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم ثابت کریں گے کہ کیس سیاسی ہے اس کیس میں فرد جرم عائد ہو ہی نہیں سکتی اس لئے سماعت ملتوی کی جائے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلا کو کیس پر دلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔اس سے قبل سابق مشیر پیٹرولیم نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے الزامات کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن وہ اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ خود نہیں بلکہ کسی کا بتایا ہوا بولتے ہیں اور بولنے اور ایکشن کے بعد سوچتے ہیں میں ان کی باتوں کا برا نہیں مانتا۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ عابدشیرعلی سے کہیں وہ میرے سامنے آئیں اور انہوں نے مجھ سے جو ڈیل کی تھی پہلے اس کا جواب دیں ورنہ میں خود بتاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے میری امامت کے حوالے سے ایک واویلا مچا رکھا ہے میری امامت کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ہرمسلمان کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہےانہوں نے کہا کہ میڈیا نے میری امامت کے حوالے سے ایک واویلا مچا رکھا ہے میری امامت کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے ہرمسلمان کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…