بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

لاہوریوں نے بجلی چوری کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) لیسکو میں ملازمین کی ملی بھگت سے ڈیفیکٹیو کوڈ کی مد میں صارفین کو بجلی چوری کرانے کا انکشاف‘ کمپنی نے میٹرز کو ڈیفیکٹو کوڈ لگانے پر پابندی عائد کردی‘لیسکو میں ڈیفیکٹو کوڈ کی مد میں صارفین کو بجلی چوری کرانے کا انکشاف ہوا ہے، ریڈنگ سیکشن کی جانب سے کسی بھی میٹر کو ڈیفیکٹو کوڈ نہیں لگایا جا سکے گا، ڈیفیکٹو کوڈ لگانے کے لئے ایم اینڈ ٹی کی رپورٹ لازمی قرار دے دی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ ملازمین کی ملی بھگت سے ڈیفیکٹو کوڈ لگا کر صارفین کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے، ڈیفیکٹو کوڈ صرف موسم گرما میں لگایا جاتا ہے تاکہ موسم سرما کی کھپت کے مطابق موسم گرما میں بھی اوسط بل بھیجا جا سکے کمپنی کی مختلف سب ڈویژنز میں ڈیفیکٹو میٹرز کی رپورٹ در ست نکلی، میٹرز کی رپورٹس درست آنے پر لیسکو حکام نے نوٹس لیتے ہوئے پابندی لگائی ہے کمپنی کی مختلف سب ڈویژنز میں ڈیفیکٹو میٹرز کی رپورٹ در ست نکلی، میٹرز کی رپورٹس درست آنے پر لیسکو حکام نے نوٹس لیتے ہوئے پابندی لگائی ہے ذرائع نے مزید بتایا کہ کمپنی نے 50 ہزار میٹرز کو تبدیل کیا ہے جبکہ چار ماہ میں مزید 50 ہزار میٹرز کو ڈیفیکٹو کوڈ لگا یا گیا ہے۔ موسم گرما کے آغاز پر ڈیفیکٹو کوڈ کی بڑھتی ہوئی شرح پر نوٹس لیا گیا۔۔واضح رہے کہ چندروزقبل وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا تھا کہ ملک میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کر دی گئی ہے۔ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا تھاکہ گزشتہ دنوں 12948میگاواٹ کی پیداوار کے مقابلے میں بجلی کی طلب 17399میگاواٹ تھی جس سے 4451میگاواٹ کا شارٹ فال ظاہر ہوتاہے۔ ایک اور بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ جن علاقوں میں بجلی چوری کی جارہی ہے وہاں پر دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ۔ جو رہنما احتجاج کر رہے ہیں وہ اپنے علاقوں سے کنڈے ہٹوائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…