جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نکاح بن متاع ،بھارتی مسلمان خاتون کے ساتھ سعودی عرب میں کیا ہوا؟افسوسناک انکشافات،شرمناک دعویٰ کردیاگیا

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)بھارتی شہر حیدرآباد کی ایک اور خاتون ایجنٹس کے دھوکے کا شکار ہو گئی، ایجنٹس نے مبینہ طور پرمسلمان خاتون کو سعودی عرب میں 3لاکھ روپے کے عوض فروخت کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی شہر حیدرآباد کی ایک اور خاتون ایجنٹس کے دھوکے کا شکار ہو گئی ہے ،جو کہ سعود ی عرب میں کفیل کی جانب سے جنسی اور ذہنی ہراسگی کا شکار ہے ۔ 39سالہ سلمہ بیگم جو کہ حیدرآباد کے علاقے ببن نگر کی رہائشی ہے۔

سلمہ بیگم کو اکرم اور شفیع نامی شہری کی جانب سے گھریلوملازمہ کی نوکری کیلئے 21جنوری 2017کو سعودی عرب بھیجا گیا تھا ۔سلمہ بیگم کی بیٹی سمینہ نے بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی والدہ کو اکرم اور شفیع نے دھوکہ دیاہے اور وہ مصیبت میں ہیں ،وہ گھر واپس آنا چاہتی ہیں لیکن ان کا کفیل انہیں وطن واپس نہیں آ نے دے رہا ،حالانہ میں ایجنٹ اکرم سے مل کر میں نے اس سے درخواست بھی کی تھی کہ میری ماں کو واپس لے آ لیکن اس نے کچھ بھی کرنے سے انکار کر دیا ۔جس کے بعد ہم نے پولیس سے رابطہ کیا لیکن پولیس بھی اس چیز پر خاموش ہے اور کچھ کرنے سے قاصر نظر آ رہی ہے ۔سمینہ نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی والدہ کو کفیل کے ہاتھوں تین لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیاہے ،یہ جنسی ہراساں کرنے کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اس کی والدہ نے سعودی کفیل سے نکاح بن متاع کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعدمیری والدہ نے جیسے تیسے کر کے مجھے اس سارے معاملے کی اطلاع دی کہ اسے ایجنٹوں نے کفیل کو بیچ دیاہے ۔سمینہ نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی والدہ کو کفیل کے ہاتھوں تین لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیاہے ،یہ جنسی ہراساں کرنے کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اس کی والدہ نے سعودی کفیل سے نکاح بن متاع کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعدمیری والدہ نے جیسے تیسے کر کے مجھے اس سارے معاملے کی اطلاع دی کہ اسے ایجنٹوں نے کفیل کو بیچ دیاہے ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…