بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا اورچین کے درمیان کتنے معاہدوں پر دستخط ہوئے؟چینی میڈیا نے حیرت انگیزتفصیلات جاری کردیں

datetime 24  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد/بیجنگ(آئی این پی )پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کا چین کے مابین 85پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کیلئے مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے ، ان پراجیکٹس میں بنیادی ڈھانچہ ، سیاحت ، ٹیکس اور صنعتکاری کے مختلف شعبہ جات شامل ہیں ۔ چینی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز پاکستانی صوبہ خیبرپخونخوا نے وزیراعلیٰ انفرادی طور پر چین کے سرمایہ کاروں کے ساتھ 60شعبہ جات میں سرمایہ کاری کیلئے معاہدوں پر دستخط

کئے جبکہ 25 معاہدے انہوں نے مقامی بزنس کے حوالے سے مختلف چینی کمپنیوں سے بھی کئے ۔ واضح رہے کہ کے پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سرکاری دورہ پر بیجنگ گئے تھے ۔ وزیراعلیٰ نے چینی میڈیا گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات انتہائی کامیاب رہے بہت سی چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کے تحت حاصل مواقع سے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ہمہر کسی کو کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کہیں گے اور جو پراجیکٹس میں لایا ہوں وہ تمام پراجیکٹس منافع بخش ہیں اور سرمایہ کاروں کیلئے بہت زیادہ مواقع ہیں ۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پراجیکٹس میں سڑکیں ، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات شامل ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ ہم ان تمام پراجیکٹس کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے یہ شعبہ جات بڑی دلچسپی کے حامل ہیں ۔ حکومت پاکستان پہلے بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت اپنی پالیسیاں سرمایہ کاروں کے حق میں بنا رہی ہے ۔ کے پی کے حکومت مزید پانچ فی صد چھوٹ دے گی ، صنعت کاری کے شعبہ جات میں سرمایہ کاری پر یقینی طور پر گزشتہ چار سالوں میں کے پی کے حکومت نے غیر ملکی سرمایہ

کاروں کو صوبہ میں واپس لانے کیلئے اقدامات کئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ کے پی کے کے متعلق افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ یہ علاقہ غیر محفوظ ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ، حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ سرمایہ کاروں کی حفاظت کیلئے اس صوبائی حکومت نے 4ہزار ماہر پولیس اہلکاروں کی الگ سے تربیت کی ہے جبکہ سی پیک کی حفاظت کا ذمہ پاکستان کی بہادر آرمی نے اپنے سر لیا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جس منصوبہ کو ہم گیم چینجر کہتے ہیں اس کے تحت چینی اور غیر ملکی سرمایہ کار نہ صرف پاکستان بلکہ کے پی کے صوبہ میں بھی مختلف شعبہ جات میں بھرپور انداز سے حصہ لیتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…