جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کاایٹم بم تیاری کے مرحلے میں،مبینہ مصدقہ اطلاعات نے دنیابھر میں ہلچل مچادی

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

تہران/واشنگٹن (آئی این پی)ایرانی حکومت کے مخالف مجاھدین خلق کے مندوبین نے ایران کے اندر سے مصدقہ اطلاعات فراہم کی ہیں اور بتایا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بنیادی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر نئے پلانٹ بھی لگائے جا رہے ہیں مگر انہیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ایران کاایٹم بم تیاری کے مرحلے میں،

مبینہ مصدقہ اطلاعات نے دنیابھر میں ہلچل مچادی،ایرانی اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام کو روکنے کا معاہدہ کرنے کے باوجود ایران ایٹم بم کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کی بیرون ملک اپوزیشن قومی مزاحمتی کونسل نے کہا ہے کہ تہران رجیم نے جولائی 2015 کے دوران چھ عالمی طاقتوں سے طے پایا سمجھوتہ پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایرانی حکومت جوہری سرگرمیوں پر پابندی کا معاہدہ قبول کرنے کے باوجود ایٹم بم تیار کر رہی ہے۔امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایرانی اپوزیشن کے نمائندہ دفتر میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایران نے بارچین فوجی اڈے پر جوہری اسلحہ سازی کا ایک نیا ریسرچ سینٹر قائم کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جوہری بم کی تیاری پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ایرانی حکومت کے مخالف مجاھدین خلق کے مندوبین نے ایران کے اندر سے مصدقہ اطلاعات فراہم کی ہیں اور بتایا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا بنیادی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر نئے پلانٹ بھی لگائے جا رہے ہیں مگر انہیں خفیہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے انہیں خفیہ رکھا جا سکے۔

ایران سے ملنے والی معلومات کے مطابق سات ذیلی گرپوں پر مشتمل ایران کا ایک ریسرچ مرکز جسے SPND کا نام دیا گیا ہے جوہری اسلحے کی تحقیق میں سرگرم ہے۔ایرانی اپوزیشن نے 2011 میں اس ادارے کا پتا چلایا تھا۔ اس کے تین سال بعد 29 اگست 2014 کو امریکی وزارت خارجہ نے اس تنظیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔سپند کی قیادت اس وقت پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر محسن فخری زادہ مہا آبادی کے پاس ہے۔

اسے اصل نام کے بجائے ڈاکٹر حسن محسنی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ شخص ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں محوری کردار اد کرہا ہے۔صدر حسن حسن روحانی نے سپند کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی تھی اور اسے کچھ عرصہ کے لیے وزیر دفاع حسین دھقان کے ماتحت کردیا گیا تھا۔ اس کا ہیڈ کواٹر تہران میں شاہراہ لنکری پر وزارت دفاع کے قریب نور منزل میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…