بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

راحیل شریف کو ا این او سی دینے کا واحد مقصدکیا ہے؟، وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کردیا

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میاں صاحب کے ورثے میں جو جائیداد آئی اس کا وہ ٹیکس دے رہے ہیں ، پیپلزپارٹی اپنی عقل ودانش کے مطابق اپنی پوزیشن تبدیل کرتی ہے ، ہم معاشی ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں جس میں بہت مشکلات بھی آرہی ہیں ، 2018میں ایک بار پھر نوازشریف کی قیادت میں ہم کامیاب ہوں گے ، بحیثیت (ن) لیگی کارکن میرے لئے نوازشریف کا رتبہ بہت بڑا ہے ،

عام آدمی میاں نوازشریف کی ذات پر اعتماد کرتا ہے ،راحیل شریف کو این او سی جاری کردیا گیا ہے ،یہ این او سی اسلامی اتحادی افواج کی سربراہی سنبھالنے کیلئے دیا گیا ہے۔ وہ جمعہ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کا کوئی حق نہیں ہے ، پیپلزپارٹی نے عدالتی فیصلے کو تسلیم ہی نہیں کیا وہ اپنی عقل دانش کے مطابق اپنی پوزیشن تبدیل کرتی ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تحقیقات جب شروع ہوگی تو اس کو پورا کریں گے اور ہر لحاظ سے ججز کو مطمئن کریں گے ، میاں نوازشریف تحقیقات کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں جس لیول کی تحقیقات عدالت کو مطمئن کر سکتی ہے اس لیول کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں اور ہر قسم کا ثبوت دیں گے ، تمام سوالوں کے جواب دیں گے ۔وزیردفاع نے کہا کہ نوازشریف کا رتبہ وزیراعظم کے عہدے سے ہٹ کر بھی میرے لئے بہت عظیم رتبہ رکھتے ہیں ،میاں نوازشریف نے 27سال میں تین بار کم بیک کیا ہے کیونکہ پاکستان کا عام آدمی اس سے محبت کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کے حصے میں جتنی بھی اپنے والد کی جائیداد آئی وہ اس پر پورا ٹیکس ادا کرتے ہیں ، وزیراعظم کی قیادت میں 2018میں ایک بارپھر انتخاب میں کامیاب ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کو این او سی جاری کردیا گیا ہے ، یہ این او سی اسلامی اتحادی افواج کی سربراہی سنبھالنے کیلئے دیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…