جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کلبھوشن یادیو ،بھارتی اخبار کے حیرت انگیز انکشافات پر ملک بھرمیں ہلچل،بھارتی وزارت خارجہ نے معذرت کرلی

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی ) معروف بھارتی اخبارمیں کلبھوشن یادیو کی پراسراریت پر مضمون شائع ہوا ہے جس میں میں کلبھوشن کی شخصیت،رابطوں اور بھارتی حکومت کے موقف پر کئی سوالات اٹھائے گئے ،بھارتی وزارت خارجہ نے سوالات پر جواب دینے سے معذرت کرلی۔جمعہ کو بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پراسراریت پر مضمون شائع کیا گیا،جس میں کرن تھاپر نے کلبھوشن یادیو سے متعلق حکومت

کے دعوؤں کا پردہ فاش کردیا،مضمون میں کلبھوشن کی شخصیت،رابطوں اور بھارتی حکومت کے موقف پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں،مضمون میں سوالات اٹھائے گئے کہ کلبھوشن یادیو دو پاسپورٹ کا حامل کیوں تھا،کلبھوشن کو دوسرا پاسپورٹ حسین مبارک پٹیل کے نام سے 2003میں جاری ہوا،حسین مبارک کے دوسرے پاسپورٹ کی تحریر 2014میں ہوئی،بھارت کی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے سوال پر معذرت کرلی،ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے،کلبھوشن یادیو 2007سے ممبئی میں اپنی والدہ اونتی کے فلیٹ پرکرائے پر رہ رہا تھا،کلبھوشن نے حسین مبارک پٹیل کے نام پر والدہ کا فلیٹ کرائے پرلیا،مضمون میں سوال کیا گیا کہ کلبھوشن نے اپنی والدہ کا فلیٹ حسین مبارک پٹیل کے نام سے کرائے پر کیوں لیا،کلبھوشن یادیو نے اسلام قبول کرنے کے بعد نام تبدیل کیا،کلبھوشن یادیو کے نام سے ایک کار آمد پاسپورٹ کیوں اپنے پاس رکھا،بھارتی حکومت نے دونوں پاسپورٹس کا ریکارڈ چیک کیوں نہیں کیا۔مضمون میں سوال کیا گیا کہ کلبھوشن نے اپنی والدہ کا فلیٹ حسین مبارک پٹیل کے نام سے کرائے پر کیوں لیا،کلبھوشن یادیو نے اسلام قبول کرنے کے بعد نام تبدیل کیا،کلبھوشن یادیو کے نام سے ایک کار آمد پاسپورٹ کیوں اپنے پاس رکھا،بھارتی حکومت نے دونوں پاسپورٹس کا ریکارڈ چیک کیوں نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…