جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما کیس کا فیصلہ،جیت کس کی ہوئی؟ عالمی میڈیا نے کیا کہا؟جانیئے

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ کی طرف سے پاناماکیس کے فیصلے کوعالمی میڈیانے نمایاں کوریج دی ہے اورتمام بڑے بڑے نشریاتی اداروں نے اس معاملے کوبریکنگ نیوزکے طورپرپیش کیاجبکہ مختلف عالمی اخبارات نے اس معاملے پراپنی اپنی خبروں میں مختلف تجزیے بھی پیش کئے ۔معروف برطانوی اخبار گارڈین نے اپنے ادارے میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم نوازشریف پرکرپشن کے حوالے سے درخواست

کوردکردیا،اسی طرح بی بی سی نے کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف پاناماکیس میں عہدے سے فارغ ہوتے ہوتے بچ نکلے ہیں ۔ جرمن خبررساں ادارے ڈوشے ویلے نے اس فیصلے پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ اس فیصلے کے دوررس اثرات مرتب ہونگے اورآنے والاوقت پاکستانی وزیراعظم کے لئے مزید خوشیاں لائے گا۔مشہورامریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ عدالت نے نواز شریف کو اقتدار میں رکھتے ہوئے ان کے اہلخانہ کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری کیاہے ۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھاہے کرپشن کے الزامات پر عدالتی فیصلے میں وزیر اعظم پاکستان مقدرکے سکندرنکلے اور بال بال بچ گئے ہیں ۔سپریم کورٹ کی طرف سے پاناماکیس کے فیصلے کی خبرکووائس آف ا مریکہ نے اپنی اردوسروس میں پیج بناکراس فیصلے کی اہمیت پرتبصرہ کیاہے ۔بھارت اور چین سمیت کئی ممالک کے میڈیا نے پاناما کیس کے فیصلے کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری کیا۔بھارتی خبررساں ادارے اور ٹی وی چینلز نے پاناما کیس کے فیصلے کو خصوصی کوریج دی ۔پاکستانی میڈیا نے پاناما لیکس کے فیصلے کے حوالے سےصبح سے ہی اپنی  خصوصی نشریات شروع کردی تھیں اوراس دوران مختلف تجزیہ کار تبصرے کرتے اور کیس کے حوالے سے اندازے لگاتے رہے ۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں پر مشترکہ

تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کورٹ روم نمبر 1 میں پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…