ابن سیرینؒ جنہوں نے تعبیر الرؤیا کتاب لکھی ان کا مرتبہ اللہ نے بہت بڑا بنایا۔ آج بھی ہر عالم کے پاس وہی کتاب ہوتی ہے اور خوابوں کی تعبیر اسی میں سے بتائی جاتی ہے۔ ان کی بہن تھیں ’’حفصہ‘‘ یہ ساری قرأتوں میں اتنی ماہرہ تھیں، اتنی اچھی قاریہ تھیں (سبحان اللہ) ان کے حالات میں لکھا ہے کہ 32 سال اپنی گھر کی مسجد میں گزار دیے۔ فقط طہارت وغیرہ کے لیے مسجد سے باہر نکلتیں۔
باقی سارا وقت اسی مسجد میں بیٹھ کر عورتوں کو اور چھوٹے بچوں کو دین کی تعلیم دیتیں۔ اتنی بڑی قاریہ تھیں کہ محمد بن سیرین کو خود اگر قرآن میں کسی لفظ کے تلفظ کے اندر مشکلیں پیش آتیں تو کسی بچے کو بھیج کر کہتے کہ جاؤ دیکھو حفصہ اس لفظ کو کس طرح ادا کرتی ہے۔ پھر اس لفظ کو تم بھی ایسے ہی ادا کر لینا۔ چنانچہ ان کے بارے میں بعض تابعین نے لکھا ہے کہ ہم نے اتنی عبادت گزار اور اتنی علم والی عورت کہیں نہیں دیکھی، حتیٰ کہ بعض نے کتابوں میں لکھا کہ ہم نے ایسی عورت علم والی دیکھی کہ جن کو اگر ہم حسن بصری پر بھی چاہیں تو فضیلت دے سکتے ہیں۔ کسی نے کہا سعید بن المسیب سے بھی زیادہ تو جواب دیا ہاں کسی نے ان کی باندی سے پوچھا اپنی مالکہ کے بارے میں کیا کہتی ہو؟اس نے بڑی تعریفیں کیں اور کہنے لگیں بڑا اچھا قرآن پڑھتی ہیں۔ ہر وقت عبادت کرتی رہتی ہیں۔ ہر کام شریعت کے مطابق کرتی ہیں لیکن پتہ نہیں ان سے کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے جو اتنا بڑا ہے کہ عشاء سے نماز کی نیت باندھ کر رونا شروع کرتی ہیں اور فجر تک کھڑی روتی رہتی ہیں۔ (وہ بے چاری باندی یہ سمجھیں کہ شاید کسی بڑے گناہ کی وجہ سے ساری رات رو رو کر معافیاں مانگتی ہیں) تو اس سے اندازہ لگائیے کہ حفصہ بنت سیرین نے دین کی خدمت کتنی زیادہ کی۔ چنانچہ اس قسم کی اور بھی کتنی مثالیں ہیں۔
رابعہ بصریہؒ کا خوفِ خدا
رابعہ بصریہؒ ایک دفعہ کہیں بیٹھی تھیں، قریب ہی ایک آدمی بھنا ہوا گوشت کھا رہا تھا، انہوں نے جب اسے دیکھا تو رونا شروع کر دیا، وہ آدمی سمجھا کہ انہیں بھوک لگی ہے اور یہ چاہتی ہیں کہ مجھے بھی کھانے کو دیا جائے، اس نے پوچھا کہ کیا آپ بھی کھائیں گی؟ فرمانے لگیں نہیں، میں اس لیے نہیں رو رہی بلکہ میں کسی اور بات پہ رو رہی ہوں،
اس نے پوچھا کہ وہ کون سی بات ہے؟ فرمانے لگیں کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ جانوروں اور پرندوں کو آگ پر بھوننے سے پہلے انہیں مار دیا جاتا ہے اور ذبح کیے ہوئے جانور کو بھونتے ہیں، میں قیامت کے دن کو سوچ رہی ہوں کہ جب زندہ انسانوں کو آگ میں ڈال کر بھول دیا جائے گا، میں نے بھنے ہوئے مرغ کو دیکھا تو مجھے قیامت کا دن یاد آ گیا، مجھے وہ رات یاد آ گئی کہ جس کی صبح کو قیامت ہو گی،
اے بندے! تو بھنے مرغ کھانے کا عادی ہے، کباب اور تکے منگوا منگوا کر کھاتا ہے، سوچا کریں کہ ہم جو اس گوشت کو بھون بھون کر کھا رہے ہیں اسے تو ذبح کرکے بھونا گیا، اگر ہم گناہ کریں گے تو فرشتے ہم زندوں کو بھونیں گے، اس لیے ہمیں گناہوں سے ضرور بچنا چاہیے۔



















































