جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں ایک شخص نے فیس بک پر ایسی ویڈیو دکھا دی کہ دیکھتے ہی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)امریکی پولیس نے فیس بک پرایک شخص کو لائیو قتل کرتے ہوئے دکھانے والے ملزم کی تلا ش شروع کردی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست اوہایو میں کلیولینڈ پولیس اس شخص کی تلاش میں ہے جس نے ایک شخص کے قتل کو فیس بک پر لائیو نشر کیا تھا۔سٹیو سٹیفن نامی مشتبہ شخص نے ایک علیحدہ ویڈیو پوسٹ میں کہا ہے کہ اس نے 13 افراد کا قتل کیا ہے اور وہ مزید قتل کرنے والا ہے۔کلیولینڈ پولیس

کے سربراہ کالون ولیئمز نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ انھیں باقی کسی اور ہلاکت کی معلومات نہیں ہیں۔مسٹر ولیمز نے کہا ہے کہ مختلف قسم کی سکیورٹی فورسز مسٹر سٹیفن کی تلاش میں ہیں۔کلیولینڈ پولیس نے ان کا شکار ہونے والے کی شناخت 74 سالہ رابرٹ گاڈون کے طور پر کی ہے۔پولیس سربراہ کالون ولیئمز نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں آج رات مزید خون بہانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اسے آج کسی نتیجے پر پہنچانا ہے۔ ہمیں سٹیو کو گلیوں سے نکال کر لانا ہے۔انھوں نے بتایا کہ حکام نے اس ‘احمقانہ’ واقعے کے بارے میں ‘اوہایو ریاست اور اس کے باہر’ انتباہ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شخص کے قریب مت جائیں۔ حکام کے مطابق وہ شخص ممکنہ طور پر مسلح ہے اور خطرناک ہے۔کلیولینڈ پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر مسٹر سٹیفن کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں ان کا قد چھ فٹ ایک انچ بتایا گیا ہے اور وہ سیاہ فام ہیں جس کی رنگت درمیانے درجے میں آتی ہے۔ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک سفید یا بادامی رنگ کی ایس یو وی گاڑی چلا رہے ہیں۔مسٹر ولیئمز نے کہا کہ مقتول کو بغیر کسی وجہ کے اچانک چن لیا گیا ہے اور انھوں نے اسے بے معنی قتل قرار دیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مسٹر سٹیفن کو واضح طور پر مسئلہ ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ آگے آئے تاکہ اس کو وہ

مدد فراہم کی جاسکے جس کی اسے ضرورت ہے۔سی این این کے مطابق امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی مقامی پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون کر رہا ہے۔کلیو لینڈ کے میئر فرینک جیکسن نے کہا کہ مسٹر سٹیفن جان لیں کہ اسے بالآخر انھیں پکڑ لیا جائے گا۔خیال رہے کہ فیس بک پر براہ راست قتل کے دکھائے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ سال جون میں شکاگو کی ایک سڑک پر ایک شخص نے فیس بک لائیو کے دوران خود کو

گولی مار کر حودکشی کر لی تھی، جبکہ مارچ میں ایک نا معلوم شخص نے براہ راست نشریات میں 16 بار فائرنگ کی تھی۔فیس بک لائیو میں کسی بھی شخص کو ریئل ٹائم میں براہ راست نشر کی سہولت فراہم رہتی ہے۔ یہ سہولت سنہ 2010 میں شروع کی گئی تھی لیکن اب اس کا رواج عام ہوچکا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…