جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی حکومت نے کار رینٹل سیکٹر کو’’ سعودائزیشن پروگرام ‘‘میں شامل کر لیا

datetime 16  اپریل‬‮  2017 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب جوکہ ان دنوں شدید مالی بحران کاشکارہے جس کی وجہ عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں ریکارڈکمی ہے اوراب سعودی عرب نے معاشی خسارے کوکم کرنے کےلئے ’’سعودائزیشن پروگرام‘ ‘شروع کردیاہے جس کے تحت کئی شعبوں میں غیرملکیوں کے نوکری یا سرمایہ کاری کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کار رینٹل سیکٹر کو بھی

100فیصد سعودائزیشن پروگرام میں شامل کر لیا ہے جس کے بعد اب اس سیکٹر میں صرف سعودی شہری ہی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اوراس سیکٹرسے وابستہ غیرملکیوں کوبے دخل کردیاگیاہے ۔سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے  کاررینٹل سیکٹر میں لیبر قوانین کے آرٹیکل 39کے تحت غیرملکیوں کا نوکری کرنا جرم قراردے دیا گیا ہے۔سعودی ایج آرڈی فنڈ کی طرف سے اس قانون پر عملدرآمد کرانے کے لئے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فنڈ حکام کاکہناہے کہ یہ شعبہ اس لئے ’’سعودایزیشن پروگرام ‘‘میں شامل کیاگیاہے کیونکہ اس شعبے سے زیادہ سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے اوراب اس آمدنی میں سے غیرملکیوں کوکوئی حصہ نہیں مل سکے گاجبکہ سعود ی حکومت اپنے شہریوں کواس شعبے میں کام کرنے کےلئے آسان شرائط پرقرضے بھی فراہم کرے گی تاکہ سعودی شہری اس شعبے کی طر ف زیادہ گامزن ہوسکیں ۔سعودی عرب میں اس وقت سب سے زیادہ منافع بخش کاروباررینٹل کارسروس کاہے کیونکہ دنیابھرسے اوربالخصوص  اسلامی ممالک سے لوگ سعودی عرب میں آتے ہیں تواس سروس سے استفادہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے کروڑوں ڈالرزکازرمبادلہ بھی سعودی عرب کوملتاہے اس وجہ سے اس شعبے میں سعودی عرب نے پاکستانیوں سمیت دیگرغیرملکیوں کوکام کرنے سے روک دیاہے ۔واضح رہے کہ سعودی عرب اس شعبے سے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…