جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے ایک مرتبہ پھر آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کےلئے آوازبلندکردی

datetime 14  اپریل‬‮  2017 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف اکثراپنی آوازبلندکرتارہاہے اورایک آزاد فسلطین ریاست کے قیام کاخواہاں ہے ۔اب ایک مرتبہ پھرچین نے آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کاقیام عمل میں نہ آنے پرافسوس کااظہارکیاہے۔تفصیلات کے مطابق چینی وزیرخارجہ وینگ ژی نے کہا ہےکہ بہت افسوس کی بات ہے کہ تاحال آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آ سکا۔ یہ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ایک

بڑی ناانصافی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینی حکومت کی کی حمایت جاری رکھے گااور اقوام متحدہ میں بھی اپناکرداراداکرتارہے گا۔چینی وزیرخارجہ نے فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ چین 1967ءکی سرحدی حدود کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مستقبل میں مشرقی یروشلم کو ریاست کا دارالحکومت بنانے کے لیے فلسطینیوں کی تمام تر کوششوں کی حمایت کرتارہے گا۔چینی وزیرخارجہ نے کہ 1967ءکے دور کے بارڈر کے مطابق فلسطینی ریاست کا مطالبہ بلا جواز قراردیااورکہاکہ سابق امریکی صدرباراک اوبامہ کی طرف سے اس معاملے پراسرائیل کی حمایت کرچکے ہیں جوکہ سراسرایک ظلم عظیم ہے ۔چینی وزیرخارجہ وینگ ژی نے مزیدکہا کہ فسلطینی عوام ہمارے بھائی ہیں اورہم 70سالوں سے دیکھ رہے کہ ان کوابھی تک ایک خودمختارریاست قائم نہیں کرنے دی گئی جوکہ ایک بہت بڑی عالمی ناانصافی ہے ۔اس موقع پرچینی وزیرخارجہ نے کہاکہ عرب ریاستوں نے 2002ءمیں فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط پر اسرائیل کے ساتھ جو تعلقات بہتر بنانے کا معاہدہ کیاتھااس کی بھی چین حمایت کرتاہے ۔انہوں نے کہاکہ خطے کی خوشحالی کےلئے مسئلہ فلسطین کاحل بہت ہی ضروری ہے ۔اس موقع پرانہوں نے فلسطینی عوام کےلئے 73لاکھ ڈالرزامداددینے کابھی اعلان کیااورکہاکہ چین ہرشعبے میں فلسطینی عوام کی حمایت کرتارہے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…