جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان سے تعلقات ،روس اور افغانستان میں ٹھن گئی،افغان حکومت کوسنگین نتائج کا انتباہ

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

کابل /ماسکو (آئی این پی)روس نے افغانستان کے مختلف سیاسی رہنماوں اور سرکاری اہلکاروں کی جانب سے روسی حکومت پر افغان طالبان کو مدد دینے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل میں واقع روسی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے سیاسی رہنماوں، ارکانِ اسمبلی اور اعلی پولیس افسران کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے کھلم

کھلا روس پر دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت کے الزامات عائد کرنا حیران کن ہے اور اس کے نتیجے میں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے روس کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔بیان میں افغانستان کے دو ارکانِ اسمبلی اور ایک مقامی پولیس کمانڈر کے اخبارات میں چھپنے والے بیانات کی تردید کی گئی ہے جس میں افغان رہنماوں نے دعوی کیا تھا کہ حال ہی میں پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے والا روسی فوج کا ایک وفد اپنے پاکستان میزبانوں کے ساتھ علاقے میں موجود طالبان کے مبینہ تربیتی کیمپوں میں بھی گیا تھا۔اپنے بیانات اور انٹرویوز میں افغان ارکانِ اسمبلی محمد نعیم لالئی حامد زئی اور نادر کتاوزئی اور افغان پولیس کے ایک اعلی افسر اسداللہ شیرزاد نے روسی فوج کے وفد کے شمالی وزیرستان کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے اسے افغانستان کے دشمنوں کی مدد کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔روسی سفارت خانے نے اپنے بیان میں دیگر افغان رہنماوں کے بھی ایسے بیانات کا حوالہ دیا ہے جن میں روسی حکومت اور فوج کی جانب سے افغان طالبان کو ہتھیار اور مالی مدد فراہم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم بین الاقوامی اتحادی خصوصا امریکہ کو دستیاب انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود روس پر طالبان کی مبینہ مدد سے متعلق الزامات کے حق میں کوئی ثبوت یا سیٹلائٹ تصاویر سامنے نہ آنا باعثِ حیرت ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے خلاف یہ مہم پوری منصوبہ بندی سے چلائی جارہی ہے جس کا مقصد افغانستان میں لوگوں کی توجہ”اپنے آقاوں کی ناکامی سے ہٹا کر فرضی دشمن” کی جانب مبذول کرانا ہے۔روسی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس نے اہم کردار ادا کیا ہے اورروسی حکومت افغانستان کے سکیورٹی اداروں کو اسلحہ، گولہ بارود اور تربیت دینے کے ساتھ ساتھ افغان شہریوں کو تعلیمی وظائف بھی دے رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…