جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مولانافضل الرحمان کے افغانستان سے متعلق بیان پرافغان علماء مشتعل،سنگین الزام عائد کردیا

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی) افغان علماء کونسل نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکا بیان دشمنی اور نفرت پر مشتمل ہے ،مولانافضل الرحمان ایک طالبان نواز پاکستانی سیاسی رہنما ہیں جنھوں نے غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ کو قانونی قرار دے کر طالبان شدت پسندوں کی توثیق کی تھی۔پیر کو افغان

خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغان علماء کونسل کے ترجمان محمد قاسم حلیمی نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی تک امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکتا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ریمارکس دشمنی اور نفرت پر مشتمل ہیں۔انکا کہنا تھاکہ غیر ملکی افواج کی اکثریت نے ملک چھوڑ دیا ہے اسکے باوجود مولانا فضل الرحمن نے ایسا بیان دیا ۔حلیمی کا مزید کہنا تھاکہ افغانستان میں جاری جنگ غیر ملکی افواج کے خلاف نہیں بلکہ افغان قوم کے خلاف ہے ۔محمد قاسم حلیمی نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کی افغانستان کی جائز حکومت کے خلاف طالبان کی حمایت میں ایک تاریخ ہے ۔فضل الرحمان ایک طالبان نواز پاکستانی سیاسی رہنما ہیں جنھوں نے یہ کہہ کرکے غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ قانونی ہے طالبان شدت پسندوں کی توثیق کی تھی ۔ افغان علماء کونسل نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکا بیان دشمنی اور نفرت پر مشتمل ہے ،مولانافضل الرحمان ایک طالبان نواز پاکستانی سیاسی رہنما ہیں جنھوں نے غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ کو قانونی قرار دے کر طالبان شدت پسندوں کی توثیق کی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…