جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد ،جرمن پارلیمنٹ نے قانون کی منظوری دیدی،زبردست اعلان

datetime 9  اپریل‬‮  2017 |

برلن/واشنگٹن (آئی این پی )جرمن حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد نہ ہٹانے پر53بھاری جرمانے کرنے کے بل کی منظوری کے بعد ناقدین کی طرف سے حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘کے مطابق جرمنی کی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والاانتہائی متوقع بل کا بہت متنازعہ بھی ہے جس کی ناقدین آزادی اظہار کو روکنے کے طور پر سخت مذمت کررہے ہیں ۔بل کی منظور ی کے بعد

سوشل میڈیا پر غلط خبریں اور نفرت انگیز مواد کو صارفین کی جانب سے رپورٹ کرنے کے بعد سوشل میڈیا اسے ہٹانے کا پابند ہوگا۔اگر سوشل میڈیا نے ایسا موادرپورٹ کرنے کے ایک ہفتے کے اند ر نہ ہٹایا تو جرمن حکومت اس پر 53ملین ڈالر تک جرمانہ کرے گی۔چانسلر انجیلا مرکل کی کابینہ نے ستمبر میں قومی انتخابات سے قبل بدھ کو جرمن پارلیمان میں بل کے مسودے کی منظوری پر اتفاق کیا ۔جرمنی کی جانب سے یہ اقدام امریکہ میں گزشتہ سال کے انتخابات کے دوران جعلی خبروں کے جواب میں کیا گیا ہے تاکہ آئندہ الیکشن میں اس طرح کی جعلی خبروں سے بچا جاسکے۔جرمن وزیر انصاف ہیکو ماس نے کہا تھاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے جرمنی میں مہاجرین کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر آئندہ الیکشن میں رائے عامہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انجیلا مرکل کی کابینہ نے ستمبر میں قومی انتخابات سے قبل بدھ کو جرمن پارلیمان میں بل کے مسودے کی منظوری پر اتفاق کیا ۔جرمنی کی جانب سے یہ اقدام امریکہ میں گزشتہ سال کے انتخابات کے دوران جعلی خبروں کے جواب میں کیا گیا ہے تاکہ آئندہ الیکشن میں اس طرح کی جعلی خبروں سے بچا جاسکے۔جرمن وزیر انصاف ہیکو ماس نے کہا تھاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے جرمنی میں مہاجرین کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر آئندہ الیکشن میں رائے عامہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…