جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اہم ملک میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی،بڑے پیمانے پر ہنگامے

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

آسنیسون(این این آئی)پیراگوئے میں صدر کو دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دینے سے متعلق ایک بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے ملک کی کانگریس کو ہی نذرِ آتش کر دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق مجوزہ بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے چاردیواری اور کھڑکیوں کو توڑتے ہوئے پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔گزشتہ رات مظاہرین کو آسنسیون کی گلیوں میں پارلیمان کے باہر رکاوٹوں کو آگ

لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔احتجاجی مظاہرین عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں اس بل کے حامیوں کے دفاتر میں پہلے تھوڑ پھوڑ کی اور پھر آگ لگا دی۔پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیوں اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے اس بل کی منظوری ضروری ہے جہاں صدر کارٹیز کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔اس دوران ایوان کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ اس سلسلے میں جو اجلاس ہونے والا تھا وہ اب نہیں ہو گا اور اس پر فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انھوں نے لوگوں سے پر امن رہنے کو بھی کہا۔اس بل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس سے ملک کے جمہوری ادارے کمزر پڑ جائیں گے۔پیراگوئے میں 35 برس کی آمریت کے بعد 1992 میں جو نیا آئین مرتب کیا گیا تھا اس کے مطابق صدر صرف ایک بار ہی پانچ برس کی معیاد کے لیے منتخب ہو سکتا ہے۔لیکن موجودہ صدر ہوراشیو کارٹیز دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے اس آئینی پابندی کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ان کی معیاد 2018 میں ختم ہورہی ہے اور وہ دوباہ انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل جب سینیٹ نے آئین میں ترمیم کے لیے اس بل کو منظوری دی تو اس کے خلاف لوگوں نے باہر نکل کر سڑکوں پر مظاہرہ کیاتھاپیراگوئے 1945 سے لے کر 1989 تک آمر جنرل الفیرڈو سٹروزنیر کے ماتحت تھا جنھوں نے بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ 1992 میں نئے آئین کے بعد جدید حکومت کا قیام عمل میں آیا لیکن سیاسی جماعتوں کے درمیان آپسی جھگڑوں اور کئی بارناکام بغاوتوں کے سبب ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…