جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کی جیت میں روس کا کردار،ٹرمپ کے داماد کیا کرتے رہے؟امریکیوں نے کس کا اپنا صدر منتخب کرلیا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے انتخابات میں روسی حکام سے مبینہ رابطوں کی تحقیقات کے لیے پوچھ گچھ کرے گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے روس کے ساتھ مبینہ روابط کے بارے میں تفتیش کرنے والی کمیٹی امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر سے پوچھ گچھ کرے گی۔وائٹ ہاؤ س نے کہا ہے کہ مسٹر کشنر نے

رضاکارانہ طور پر سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کی پیشکش کی ہے۔یہ کمیٹی گذشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی جانچ کر رہی ہے۔امریکہ کی انٹیلجنس برادری کا خیال ہے کہ صدراتی انتخابات کے دوران روس کی جانب سے ہونے والی مبینہ ہیکنگ مسٹر ٹرمپ کو ہلیری کے مقابلے میں کامیاب بنانے کے لیے کی گئی تھی۔روس ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے جبکہ مسٹر ٹرمپ نے اسے ‘غلط خبر’ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔اس معاملے میں کانگریس کی سطح کے دو جبکہ امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے ایک بار جانچ ہو چکی ہے۔دریں اثنا ڈیموکریٹک ایوان نمائندہ گان نے رپبلکن رہنما اور انٹیلجنس کمیٹی کے صدر ڈیون نیونس سے کہا ہے کہ وہ اس جانچ سے خود کو علیحدہ کرلیں۔ایوان میں ڈیموکریٹ کے رہنما نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ انھوں نے وائٹ ہاس جاکر چپکے سے دستاویزات دیکھ کر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔مسٹر نیونس کے ترجمان نے کہا ہے کہ انھوں نے وائٹ ہاس کا دورہ اس لیے کیا تاکہ وہ ‘محفوظ لائن پر معلومات کو دیکھ سکیں۔’بہر حال ڈیموکریٹ کے رہنما اور انٹیلجنس کمیٹی کے رکن ایڈم سکف نے کہا ہے ‘مسٹر نیونس کا وائٹ ہاس جانا اور اس بات کو کمیٹی کے دوسرے ارکان سے پوشیدہ رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ انتظامیہ سے بہت قریب ہیں اور کوئی شخص جو اتنا قریب ہو وہ کس طرح اس قسم کے

قابل اعتماد جانچ کی سربراہی کر سکتا ہے۔حکام نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سینیٹ کی کمیٹی مسٹر کشنر سے روسی حکام کے ساتھ ان دو ملاقاتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہے جس کا انتظام مبینہ طور پر انھوں نے عبوری دور میں مسٹر ٹرمپ کے سینیئر مشیر کے طور پر کیا تھا۔پہلی ملاقات روسی سفیر سرگے کسلیک سے نیوریارک میں ٹرمپ ٹاور میں ہوئی تھی جبکہ دوسری روس کے سرکاری ڈیولپمنٹ بینک کے سربراہ سے کرائی گئی تھی۔وائٹ ہاس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو استثنی کا استعمال نہ کرتے ہوئے تفیتیش کے سلسلے میں شہادت دے رہے ہیں کیونکہ وہ انتخابی مہم کے دوران رہنماں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔مسٹر سپائسر نے پیر کو بتایا کہ ‘یہ ان کا کردار تھا اور وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے کردار کے بارے واضح تھے کہ انھوں نے کس سے بات کی۔’

وائٹ ہاس کے سٹاف نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ان ملاقاتوں میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی اور نو منتخب صدر کی ٹیم روسی اور دیگر غیر ملکی مندوبین سے معمول کی ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔دریں اثنا مسٹر کشنر کو وائٹ ہاس کی ایک ٹیم کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے جو سرکاری دفترشاہی کو اوورہال کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔اس ٹیم کے پاس ضابطوں کی اصلاحات کے لیے وسیع اختیارات ہوں گے جس میں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اہم میدان ہوں گے اور اس سلسلے میں ایپل کے سی ای او ٹم کک اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس مبینہ طور پر امداد کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔36 سالہ مسٹر کشنر نے اخبار کو بتایا ہے کہ حکومت کو ایک بڑی امریکی کمپنی کے طور پر چلایا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…