جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام مخالف اقدامات سے نمٹنے کیلئے کینیڈا کے وزیراعظم نے قابل تحسین قدم اُٹھالیا،مسلمانوں کے دل جیت لئے

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

؂اوٹاوا(آئی این پی )کینیڈا کے ہاس آف کامنز کے قانون سازوں نے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کی حمایت کے بعد مستقبل میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے تحریک منظور کرلی۔تفاق رائے سے منظور ہونے والی اس تحریک میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ‘عوام میں بڑھتی ہوئی نفرت اور خوف کی فضا کو تحلیل کرنے کی ضرورت کو سمجھیں’ اور ‘اسلاموفوبیا سمیت ہر قسم کی نسل پرستی اور مذہبی امتیاز کی مذمت کریں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ا رواں سال جنوری میں کیوبک مسجد میں ہونے والے حملے میں 6 مسلمان افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد سے جسٹن ٹروڈو کی حکومت پر ہر طرح کے مذہبی امتیاز کی مذمت کرنے کا دبا برقرار ہے۔جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے تقریبا سارے ہی نائب وزرا اور بائیں بازو کی نئی جمہوری پارٹی ان اقدامات کی منظوری دے چکی ہے تاہم کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں نے اس کے خلاف ووٹ دیئے۔اس تحریک کے تحت ایک پارلیمانی کمیٹی اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کرے گی کہ حکومت معاملے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرسکتی ہے، مذکورہ کمیٹی اپنی تجاویز نومبر کے وسط میں پیش کرے گی۔تحریک کے مطابق پارلیمانی کمیٹی اس حوالے سے بھی غور کرے گی کہ نسل پرستی، مذہبی تفریق اور اسلاموفوبیا کو کیسے محدود اور ختم کیا جاسکتا ہے۔یہ تحریک اقرا خالد کی جانب سے پیش کی گئی تھی جو ٹورنٹو کے علاقے میسی سوگا کی ڈپٹی ہیں۔میسی سوگا میں 7 لاکھ افراد بستے ہیں، جن میں سے اکثریت مہاجرین کی ہے۔مذکورہ تحریک عوامی رائے میں تقسیم کی وجہ بنی ہے، اینگس ریڈ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے شائع ہونے والے ایک پول کے مطابق 42 فیصد افراد نے اقدام کی مخالفت میں جبکہ 29 فیصد نے اس کے حق میں ووٹنگ کی۔جبکہ دیگر افراد نے کسی بھی رائے کے اظہار سے گریز کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…