منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

امریکیوں کوشمسی ائر بیس کا استعمال،ویزوں کا اجرا،اصل کردار کون تھا؟یوسف رضاگیلانی نے خودکوبچانے کیلئے بہت کچھ کہہ ڈالا

datetime 24  مارچ‬‮  2017 |

ملتان (آئی این پی ) پیپلزپار ٹی کے مرکزی رہنما اورسابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ میں نے کوئی خط لکھا تو وہ قانون کے مطابق ہوگا،پاکستان میں روز ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے بلاوجہ ایشو بنایا جارہا ہے،ایشو بنانے والوں کو پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خوف ہے،سفیر کو اختیار دینے کا مقصد یہ نہیں وہ قانونی تقاضوں کو نظرانداز کردے،امریکی شہریوں کو ضابطے کے تحت ویزا کے اجراء کی ہدایت کی،

سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد سفارتخانے کو پاور فل کرنا ہے،امریکہ کو شمسی ائر بیس استعمال کرنے کی اجازت مشرف نے دی،بطور وزیراعظم کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔جمعہ کو ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ویزے کیلئے سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد یہ نہیں وہ قانونی تقاضوں کو نظرانداز کردے،سفیر ایجنسیز اور عملے کو نظرانداز کرکے ویزے جاری نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ بلاوجہ معاملے کا ایشو بنایا جارہا ہے،خط بائی ہینڈ نہیں دیا ہوگا،وزارت کے ذریعے دیا گیا ہوگا،حسین حقانی کا بیان آیا ویزے ایجنسیز کی کلیئرنس کے بعد دیئے گئے،ایبٹ آباد کمیشن کرنے والے اہلکار ویزوں پر نہیں آئے تھے۔یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ امریکہ کو شمسی ائیربیس استعمال کرنے کی اجازت مشرف نے دی،امریکی شہریوں کو ضابطے کے تحت ویزے کے اجراء کی ہدایت کی،سفیر کو اختیارات دینے کا مقصد سفارتخانے کو پاور فل کرنا ہے،معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تھا،حسین حقانی بھی پیش ہوئے۔انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی،وزیراعظم اختیارات قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کرتا ہے،میں نے کوئی خط لکھا ہے تو وہ قانون کے مطابق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روز ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے،بلاوجہ ایشو بنایا جارہا ہے،ایشو بنانے والوں کو پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خوف ہے



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…