پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

نئی مردم شماری سے قومی اسمبلی میں کتنی نئی سیٹیں پیدا ہوں گی؟ سیاستدانوں نےالیکشن لڑنے کی تیاری شروع کر دی

datetime 20  مارچ‬‮  2017 |

راولپنڈی (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مقامی رہنماؤں نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں ممکنہ اضافہ ہونے کی صورت میں موقع سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نشستیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ فی الحال راولپنڈی ضلع مین قومی اسمبلی کی 7 اور صوبائی اسمبلی کی 14 نشستیں ہیں ۔ شہر

اور کینٹ ایریا میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد چار سے بڑھ کر پانچ یا چھ کر دی جائے گی ۔ کم از کم 9 لاکھ آبادی رکھنے والے حلقے کو قومی اسمبلی کی ایک نشست دی جاتی ہے اور یہ اس وقت بڑھتی ہے جب آبادی 1.5 ملین سے زائد ہو جائے ۔ رپورٹس کے مطابق مردم شماری شرو ع ہوتے ہی (ن) لیگ کے سینیٹر چودھری تنویر اور ایم این اے طاہرہ اورنگزیب نئی سیٹوں کے لئے سامنے آئی ہیں ۔(ن) لیگ کے ایک سینئر راہنما نے بتایا ہے کہ چودھری تنویر اپنے بیٹے دانیال چودھری کے لئے نئے حلقے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ این اے 52 اب بھی وزیر داخلہ چودھری نثار کا مضبوط گڑھ ہے انہوں نے کہاکہ چودھری نثار ٹیکسلا سے تعلق رکھتے ہیں اور دو حلقے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ۔ 2013 کے انتخابات میں انہوں نے اپنا آؒ ائی حلقے میں شکست کھائی تاہم این اے 52 میں سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ چودھری نثار کی موجودگی چودھری تنویر کے خاندان کو نہیں بھاتی ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھیں گی ۔ پارٹی کے ایک دوسرے راہنما نے کہا کہ یہ خدشات بھی ہیں کہ پارٹی 2018 کے انتخابات میں زیادہ تر خواتین کو الیکشن لڑائے گی کیونکہ پارٹی نے عمومی نشستوں پر پانچ فیصد خواتین کو کھپانا ہے ۔ سابق ایم این اے ملک شکیل اعوان کا کہنا ہے کہ مردم شماری سے نشستوں کی تعداد بڑھے گی تاہم امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…