بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کو ’’برکس‘‘ممالک کے اجلاس میں پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی مہنگی پڑ گئی

datetime 12  مارچ‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی)چین دیگر ترقی پذیر مماک کی معاونت کے ساتھ برکس پلس کے نام سے نیا اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے ۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ دوسرے بڑے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ راوبط بڑھا کر برکس پلس کیلئے طریقہ کار طے کرنے کیلئے گفت وشنید کرے گا ۔ ہم وسیع شراکت داری کے ذریعے اپنے دوستوں میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔چین اس سال برکس کا صدر ہے اور چین ستمبر میں ہونے والے اجلاس کی

صدارت کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین اپنے اتحادیوں کو مدعو کر کے اپنے اثرورسوخ کو وسیع کر نے کی کوشش کر رہا ہے اور اس اقدام سے برکس میں بھارت اور دیگر ارکان ممالک کے کردار میں تبدیلی آسکتی ہے ۔ یاد رہے کہ برکس کلب پانچ ممالک برازیل ، روس،بھارت ، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل ہے ۔ بھارت کے تعلقات اپنے برکس پارٹنرز کے ساتھ بدترین متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اس کی توسیع کے بعد مسائل پر سے توجہ نہ صرف ہٹے گی بلکہ چین کے لئے سیاسی پلیٹ فارم میں اضافہ بھی ہوگا ۔ چین بیجنگ نواز ممالک جیسے پاکستان ، سری لنکا اور میکسیکو کو مدعو کر سکتا ہے ۔ چین کی دوبچوں کی پالیسی نے قابل ذکر نتائج دیئے ہیں ۔ یہ پالیسی 2020تک چین کے خوشحالی کی نمو میں اضافہ کا باعث ہوگی ۔ چین برکس کو چائنہ سینٹر کی آرگنائزیشن میں تبدیل کر سکتا ہےیہ پالیسی 2020تک چین کے خوشحالی کی نمو میں اضافہ کا باعث ہوگی ۔ چین برکس کو چائنہ سینٹر کی آرگنائزیشن میں تبدیل کر سکتا ہے جیسا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ہے ۔ یاد رہے کہ برکس کا 2016میں اجلاس گوا میں ہوا تھا جس میں بھارت کی طرف سے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور پاکستان کو سرحد پار دہشت گرد کہا گیا تھا جبکہ چین نے بھارت کے اس رویہ کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کی ان تمام کوششوں کو ناکام بنایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…