بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی خواتین فوجیوں کےتصاویرسکینڈل کی اہم محکمے نےتحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

datetime 12  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (آن لائن)امریکی محکمہ دفاع نے خواتین فوجیوں کی برہنہ تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کرنے کے سکینڈل کی مکمل تحقیقات کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ تحقیقات میں مدد کے لیے مزید خواتین آگے آئیں گی۔پینٹاگون میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل نیلر نے کہا ہے کہ انھیں اندازہ نہیں کہ تصاویر کو پوسٹ کرنے میں کتنے میرینز ملوث ہیں یا کتنے میرینز کو اس میں ہدف بنایا

گیا،اگر آپ اس قسم کے رویے میں کسی طرح سے بھی شریک ہیں تو آپ میری اور میرین کور کی مدد نہیں کر رہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ میرین ایک خاص خطاب ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے آپ حاصل کرتے ہیں۔ اس میں عزت ہے لیکن اپنی ساتھی میرین کو کسی بھی شکل میں بدنام کرنے میں کوئی عزت نہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیقات کے مطابق امریکہ میں خواتین فوجیوں کی برہنہ تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کرنے کا سلسلہ صرف بحریہ نہیں بلکہ ملک کی تمام مسلح افواج تک پھیلا ہوا ہے۔گذشتہ ہفتے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی میرینز کی جانب سے فحش تصاویر ‘میرینز یونائٹیڈنامی فیس بک گروپ میں شیئر کی گئی تھیں جس پر محکمہ دفاع نے معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایسا رویہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔ان میسیج بورڈز پر مرد اہلکار اکثر پہلے اپنی خواتین ساتھیوں کی کپڑوں میں ملبوس تصاویر شائع کرتے ہیں اور پھر دیگر صارفین سے پوچھتے ہیں کہ کیا کسی کے پاس ان کی برہنہ تصویر ہیں۔ایسی برہنہ تصاویر کو ‘ونز یعنی جیت کہا جاتا ہے جن پر غیر مہذب تبصرے سامنے آتے ہیںایسی پوسٹس میں اکثر خواتین کی شناخت، ان کے ناموں اور تعیناتی کے مقام بھی شائع کر دیے جاتے ہیں۔فیس بک پر بنایا گیا ‘میرینز یونائٹیڈ نامی گروپ جس کے 30 ہزار حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکار ارکان ہیں اب بند کر

دیاگیا ہے تاہم یہ دس کے قریب خواتین فوجیوں نے شکایت درج کرائی ہے امریکی بحریہ کے جرائم سے متعلق محکمے این سی آئی ایس نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ہیں جبکہ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی اس معاملے پر آئندہ ہفتے ایک سماعت کرے گی۔این سی آئی ایس نے اس معاملے میں امریکی فوجیوں سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ ۔فیس بک پر ان تصاویر کو جاری کرنے کا انکشاف سابق اہلکار تھامس برینن کی غیر سرکاری تنظیم وار ہارس نے کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…