پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ارکان اسمبلی افغانستان کی منت سماجت کے مشورے نہ دیں،افغانستان کو یہ کام کرنا ہوگا ورنہ۔۔۔! پاکستان کا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا

datetime 7  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر برائے ریاستیں و سرحدی امور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ہمارے پاس واضح ثبوت موجود ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی میں ملوث جماعت الاحرار افغانستان سے آپریٹ ہوتی ہے اور افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں اس کی سپورٹ کرتی ہیں‘ پاکستان کی بار ہا نشاندہی کے باوجود افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے

سے روکنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی‘ ارکان اسمبلی افغانستان کی منت سماجت کرنے کے مشورے نہ دیں‘ افغانستان کو ہمارے تحفظات دور کرنا ہوں گے‘ دو دن کے لئے پاک افغان بارڈر کھولا ہے کہ اگر کوئی مزید حادثہ نہ ہوا تو زیادہ دنوں کے لئے بھی کھول سکتے ہیں۔ منگل کو وزیر ریاستیں و سرحدی امور قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث سمیٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بحث کے دوران ارکان نے صرف افغانستان‘ ایران اور بھارت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی صرف ان ملکوں بارے نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہیں اور خارجہ پالیسی کا دائرہ کار وسیع ہے۔ خارجہ پالیسی ناکام نہیں ہوئی افغانستان کے ساتھ ہمارے ماضی میں ہمیشہ اچھے تعلقات نہیں رہے افغانستان نے ہمیشہ بھارت نواز کا رویہ رکھا اور پاکستان کی مخالفت کی اس وقت بھی تیس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں۔ افغانستان کو ہمیشہ بندرگاہ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے لیفٹیننٹ خاور کو شہید کیا گیا ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ افغان اور بھارت انٹیلی جنس ایجنسیاں جماعت الاحرار کو سپورٹ کررہے ہیں۔ ہم افغانستان کے اندر جا کر کارروائی نہیں کرسکتے صرف بارڈر ہی بند کرسکتے ہیں تاکہ دہشت گرد پاکستان کے اندر آکر کارروائی نہ کرسکیں۔ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے

استعمال ہونے سے روکنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کررہی۔ ہم افغانستان کی منت سماجت نہیں کرسکتے۔ پاکستان اور افغانستان میں قیام امن دونوں ملکوں میں قیام امن سے مشروط ہے۔ ہم کتنی لاشیں اٹھائیں گے وہ جارحیت کریں اور ہم معافی مانگیں یہ نہیں ہوسکتا۔ ہم برابری کی بنیاد پر بات کرسکتے ہیں ارکان منت کرنے کے مشورے نہ دیں۔ ہمیں یہ قبول نہیں کہ بھارت کی ڈکٹیشن پر افغانستان ہمارے ساھ تعلقات خراب کرے

باغیرت قومیں معافی مانگنے کی باتیں نہیں کرتیں برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ وزیر خارجہ کے بغیر بھی ملک چلتے ہیں مشیر خارجہ کے پاس وزیر خارجہ کے تمام اختیارات موجود ہیں افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک ہوجائیں گے دو دن کے لئے بارڈر کھولے ہیں اگر کوئی حادثہ نہ ہوا تو زیادہ دنوں کے لئے بھی کھولا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…