بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

کیا تم اپنی بیوی کو پیٹتے ہو؟ امریکہ کے سوال نے مسلمانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا

datetime 7  مارچ‬‮  2017 |

اوکلوہاما(این این آئی)امریکا کی ریاست اوکلوہوما سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز جان بینیٹ نے اپنے ملاقاتی مسلمانوں کے لیے ایک تحریری سوال نامہ مرتب کیا ہے اور اس میں ایک انوکھا سوال بھی شامل ہے۔اس میں مسلمانوں سے دیگر سوالوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا تم اپنی بیویوں کو پیٹتے ہو۔میڈیارپورٹس کے مطابق ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے یہ وہی انتہا پسند ریاستی قانون ساز ہیں جنھوں

 

نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اسلام ایک کینسر ہے اور اس کو امریکا سے کاٹ پھینکنا چاہیے۔ان کے دفتر نے جمعرات کو یہ سوال نامہ تقسیم کیا تھا۔اسی روز امریکی اسلامی تعلقات کونسل (کیئر) کی اوکلا ہوما شاخ نے اپنا سالانہ یوم مسلم منایا تھا۔جان بینیٹ کے دفتر نے ان سے ملنے کے لیے آنے والے اسلامی اسکول کے تین طلبہ کو یہ سوال نامہ دیا تھا۔اس سوال نامے میں مسلمانوں سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ حماس اور حزب اللہ ایسے دہشت گرد گروپوں کی مذمت کرتے ہیں ؟کیا وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کو چھوڑنے والے سابق مسلمانوں کو سزا دی جانی چاہیے؟ ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا اسلامی شریعت کا غیر مسلموں پر اطلاق کیا جانا چاہیے؟شہری حقوق کی تنظیموں اور امریکی اسلامی تعلقات کونسل کی اوکلاہوما شاخ نے اس سوال نامے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔کیئر اس شہر کے مکین قریباً چالیس ہزار مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اوکلو ہوما میں کیئر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آدم سلطانی نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی شخص کا احمقانہ ، اسلام فوبیا،نفرت انگیزی اور تعصب پر مبنی سوالات کے ذریعے شخصی جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے‘‘۔ مسٹر بینیٹ نے اس سوال نامے کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے چھوڑے ایک پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ریاست اوکلا ہوما کے ایوان نمائندگان کے اس منتخب رکن نے ماضی میں اسلام کو اپنی قوم کے لیے ایک

 

سرطان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو کاٹ پھینکنے کی ضرورت ہے۔ بینیٹ نے اکتوبر میں مذہبی مطالعے کے لیے بلائے گئے ایک اجلاس میں کیئر اور ایک مقامی امام کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…