اسلام آباد(آئی این پی)خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا کی نشستوں کا تعین مردم شماری کے بعد ہوگا ،صوبائی اسمبلی میں 25سے30نشستوں کا اضافہ متوقع ہے ، مردم شماری کے بعد ہی خیبرپختونخوا میں فاٹا کے انضمام کا عمل شروع ہو جائے گا ۔ اس خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فاٹا سے متعلق پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری کے نتیجہ میں قبائلی علاقوں پولیٹیکل انتظامیہ کے اختیارات محدود ہو جائیں گے اور فاٹا کی انتظامیہ منتخب نمائندوں کو جوابدہ ہوگی ۔ ترمیم کے تحت فاٹا کیلئے 25سے30صوبائی حلقوں کا تعین متوقع ہے اور یہ تعین مردم شماری کے بعد ہوسکے گا کیونکہ کیونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ کے انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر کروانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔
ملک بھرمیں قومی وصوبائی حلقوں کی ازسرنو تشکیل ہوگی ۔ فاٹا کیلئے صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کا تعین ہوگا اور صوبائی حلقوں کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا باقاعدہ عمل شروع ہو جائے گا ۔ رواں سال کے وسط میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش ہونے کا امکان ہے ۔صوبائی حلقوں کے تعین پر فاٹا کیلئے ضلعی الیکشن کمیشنز کے معاملے میں پیش رفت کیلئے کام کیا جائے گا ۔ اسی طرح سات قبائلی علاقوں اور 6فرنٹیئر ریجنز میں سیاسی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات ہوں گے ۔ اس طرح سات ضلعی کونسلوں کا قیام متوقع ہے ۔ فاٹا کے لئے مجموعی مالی وسائل سے 30فیصد فنڈز بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے استعمال کئے جائیں گے ۔



















































