بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ سلمان نے مسلمانوں کیلئے اہم اعلان کر دیا

datetime 4  مارچ‬‮  2017 |

جکارتہ(این این آئی)انڈونیشیا کے دورے پر موجود سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے مسلمانوں کو اتحاد قائم کرنے پر زور دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے اندونیشیا کے ایوان نمائندگان کا دورہ کیا اور ارکان سے خطاب کیا،ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دہشت گردی کے ساتھ دیگر قوموں کے احترام میں کمی اور اندرونی معاملات میں مداخلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ان

 

چیلنجوں سے سے نمٹنے کیلئے متحد ہو کر تعاون کرنے کی ضرورت ہے جس سے دنیا کے مفادات اور عالمی امن پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے انڈونیشیا کے دورے کے موقع پر دارالحکومت جکارتہ میں جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کا دورہ کیا ہے۔میزبان صدر جوکو وِدودو بھی ان کے ساتھ تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد استقلال انڈونیشیا کی ہالینڈ سے آزادی کی یادگار ہے اور یہ آزادی کی علامت کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔اس کی تعمیر کا آغاز 1961ء میں ہوا تھا اور یہ 1975ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی تھی۔اس مسجد کو 1978ء میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔دنیا میں سب سے بڑے اسلامی ملک کی یہ سب سے بڑی مسجد ایک منفرد فن تعمیر کا شاہکار ہے،اس میں بیک وقت دو لاکھ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔اس کا ایک مینار 90 میٹر بلند ہے اور اس کی مرکزی عمارت دو بڑے گنبدوں پر مشتمل ہے۔خادم الحرمین الشریفین نے اس مسجد کے لیے قرآن مجید کی آیات والا کپڑے کا ایک خوب صورت ٹکڑا تحفے کے طور پر دیا ہے۔ غلافِ کعبہ کی طرح سیاہ رنگ کے اس کپڑے پر سنہرے دھاگے سے آیاتِ قرآنی کی کشیدہ کاری کی گئی ہے۔انھوں نے انڈونیشی صدر کے ساتھ مسجد استقلال میں نماز ادا کی اور اس کے بعد صدارتی محل میں ملک کے متعدد اسلامی مذہبی قائدین سے ملاقات کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…