اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما لیکس کا فیصلہ،معروف لیگی رہنما میر ظفرا للہ خان جمالی نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

جعفرآباد ( آئی این پی ) سابق وزیراعظم و بزرگ سیاستدان میر ظفرا للہ خان جمالی نے کہا ہے کہ پانا مہ کیس کا فیصلہ مشکل ضرور ہے تاہم ناممکن نہیں اوریہ فیصلہ برسوں یاد رکھا جائے گا عسکری قیادت کے اقدامات سے عوام کے دلوں میں پاک افواج کیلئے محبت میں مزید اضافہ ہوا ہے دہشت گردی کے ناسور کوختم کرنے کیلئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

نصیرآباد ڈویڑن کی سطح پر اتحاد بنانے کیلئے اسٹیک ہولڈر سے مثبت بات چیت جاری ہے سیاست کا مطلب عوام کی خدمت ہے بدقسمتی سے اب سیاست پیٹ پرستی بن چکی ہے اور ایسے سیاستدانوں نے اس ملک اور اپنے عوام کو انتہائی مشکل سے دوچار کیا ہے جنہوں نے صرف اپنا پیٹ بھرا اور عوام کے مسائل میں اضافہ کیا۔ وہ ہفتہ کو سنیئر صحافی دھنی بخش مگسی کی قیادت میں ملنے والے صحافیوں کے ایک وفد سے بات چیت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن زدالفساد ملک دشمنوں کے خلاف ’زدالبرباد‘ ثابت ہو گا پاکستان اس وقت مشکل ترین دوراہے پر کھڑا ہے جو جو لوگ سیاستدان بنے یا بنائے گئے انہیں چاہئے کہ جمہوری سسٹم کو آگے چلنے دیں کیونکہ پاکستان ہماری پہچان اور شناخت ہے اس شناخت کو ہم سب نے ہر صورت برقرار رکھنا ہے کیونکہ آج ہم ہیں کل جب نہیں ہونگے تو یہ ملک ہمارے نسلوں کی پہچان بنے گا اور ہماری شناخت برقرار رہے گی اس کیلئے سیاستدانوں کو سچا پاکستانی بن کر سوچنا ہو گا بدقسمتی یہ رہی کہ عوام کے ووٹوں سے پارلیمنٹ میں آنے والوں نے عوام کو سوائے دلاسوں کے کچھ نہیں دیا میر ظفر اللہ خان جمالی کا مزید کہنا تھا

کہ ہمیں متحد و منظم کرنے کیلئے باہر سے کوئی نہیں آئے گا ہم نے اپنے آپ کو ایک قوم ثابت کرنا ہو گا ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جھل مگسی ،کچھی، لہڑی، نصیرآباد ،جعفرآباد اور صحبت پور کی سطح پر سیاسی اتحاد بنانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت جاری ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جمالی ،کھوسہ،مگسی، رند،ڈومکی ، بلیدی براہوی جاموٹ اور دیگر اقوام کو مل بیٹھ کر اس سلسلے میں اتفاق رائے قائم کرنا ہو گا اور اس کیلئے اگر مشاور ت سے کسی کو قربانی دینی پڑی تو قربانی دینی چاہئے اور باہمی مشاورت سے آنیوالے انتخابات میں اپنے امیدواروں کا تعین کیا جائے گاجمالی سیاسی گھرانے کے متوقع جانشین سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جمالیوں میں اہلیت تو ہے لیکن ذمہ داری نہیں ہمیں ہمارے بزرگوں نے ہدایت کی تھی کہ عوام کی خدمت کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے

ہمیں سیاست میں ذمہ داریاں دی گئیں تھیں ہم نے ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایااور ان اصولوں پر سختی سے کار بند رہا دو نسلیں تبدیل ہوئیں لیکن میں نے بزرگوں کی سیاست کو امانت ہی تصور کیا مگر بدقسمتی سے اب سیاست میں نفع نقصان شامل ہو گیا ہے الیکشن میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے پہلے عوام کے نمائندے صرف عوام اور علاقے کی خدمت کیلئے سیاست میں آتے تھے جب دیکھوں گا کہ جمالیوں میں ذمہ داری آ گئی ہے تو میں اس فرض سے سبکدوش ہو جا ?نگا تقریب میں موجود کھوسہ قبیلے کے سیاسی قائد میر ظہور حسین خان کھوسہ نے میر ظفراللہ خان جمالی کی جانب سے اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا

 

کہ تمام اضلاع پر مشتمل اتحاد بنایا گیا تو وہ اس کا حصہ ہونگے اس موقع پر رکن بلوچستان سمبلی میر عبدالماجد ابڑوبھنگر قبیلے کے سربراہ سردار عمر دراز خان بھنگر، حاجی محمد انور کنرانی میر عبدالر?ف بھنگر حاجی خان محمد بھنگر جمعیت علماء4 اسلام کے رہنما میر غلام رسول لہڑی بھنگر قومی اتحاد کے چیئرمین عبدالحئی بھنگر و دیگر بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…