بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی کے حکمران جب باہر نکلتے ہیں تو کتنا پروٹوکول ہوتا ہے ؟ شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ویڈیو پاکستانی سیاستدانوں کے منہ پر ایک طمانچہ

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کا اصول ہے کہ وہ قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں جن کے سربراہان خود میں اور اپنی عوام میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ۔ وہ جب عوام میں آتے ہیں تو بے خوف اور سیکیورٹی کے بغیر، گویا وہ بھی عوام کا ہی ایک حصہ ہیں جو خود کوعوام کا بجا طورپر خادم سمجھتی ہیں ان پر ظلم و ستم کرنے والا کوئی جابر نہیں ۔ ایک صحرا کو دبئی کا نام دینے والے اور

اسے دنیا بھر میں تزین و آرائش کے حوالے ایک الگ پہچان دینے والے دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد المکتوم ہیں جو عوام میں بے حد مقبول بھی ہیں ۔ گزشتہ روز سے ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں بغیر کسی پروٹوکول کے دبئی کی سڑک پر چلتےہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے سٹی واک دبئی کا پیدل دورہ کیا۔ بغیر کسی پروٹوکول کے حاکم دبئی نے سگنل پر کھڑے ہو کر سگنل بند ہونے کا انتظار بھی کیا جس کے بعد وہ سڑک پار کر کے دوسری جانب چلے گئے۔حاکم دبئی کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ دیکھی جا چکی ہے ۔ سوشل میڈیا صارفین نے بغیر سکیورٹی اور پروٹوکول شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سڑک پر چلتے ہوئے اس ویڈیو کو خوب سراہا اور کہا کہ حاکم وہی ہوتا ہے جو بلا خوف و خطر عوام کے درمیان میں چلتا پھرتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر جونہی یہ ویڈیووائرل ہوئی تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بھی اسے خوب سراہا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے حکمرانوں سے بہتر تو یہی عوام ہے جو بلا خوف و خطر بغیر سیکیورٹی کے عوام میں آجاتا ہے ۔ ہمارے حکمران تو نکلنے سے پہلے روڈز تک خالی کروا لیتے ہیں ۔

 

 

 

R3 r1 R2

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…