پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’ہم مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں۔۔۔قوموں کی عزت ہم سے ہے‘‘ وہ کونسی پاکستانی خاتون ہے جس کی اجازت کے بغیر ناسا کے خلائی راکٹ اور جہاز اڑان نہیں بھرتے جان کر آپ بھی قوم کی اس بیٹی پر فخر کریں گے

datetime 16  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جی ہاں ایک پاکستانی خاتون کی اجازت کے بغیر ناسا کے راکٹ اور خلائی مشن اڑان نہیں بھر سکتے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی نژاد حبا رحمانی ناسا میں ایویانکس اینڈ فلائٹ کنٹرول انجینئر کے عہدے پر تعینات ہیں ۔ راکٹوں کے علاوہ حبا رحمانی پیگاسس، ایکس ایل اور فیلکن نائن جیسے جدید خلائی طیاروں کی ٹیسٹنگ اور جائزے کا کام کر چکی ہیں۔ ناسا کی جانب سے دی گئی ذمہ داری کے تحت بعض اوقات راکٹ

اور خلائی جہاز ان کی اجازت کے بغیر اڑان نہیں بھر سکتے۔ واضح رہے کہ ناسا میں تعینات پاکستانی نژاد حبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں لیکن اوائل عمری میں وہ کویت منتقل ہو گئیں اس کے بعد عراق جنگ میں انہیں اپنے والدین کے ہمراہ اردن اور عراق کے درمیان سرحد پر کچھ عرصہ ایک پناہ گزین کیمپ میں بطور پناہ گزین گزارنا پڑا، پناہ گزین کیمپ میں گزارے وقت نے ا نہیں صحرا کی ریت پر سوتے ہوئے رات کو ٹمٹاتے ستاروں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا اور وہ اسی جائزے میں علم فلکیات کے شوق میں مبتلا ہو گئیں۔پاکستان پہنچ کر وہ جنگ ختم ہونے کا انتظار کرتی رہیں اور جنگ ختم ہوتے ہی دوبارہ کویت چلی گئیں جہاں انہوں نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ 1997میں حبا نے یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا سے گریجویشن کی اور مشہور طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے وابستہ ہوگئیں جہاں انہوں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے مختلف حصوں کی جانچ کا کام کیا۔ خلانوردی کے شوق نے انہیں جارجیا ٹیک سے ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے میں مدد فراہم کی اور 2008میں انہوں نے کینیڈی سپیس سینٹر فلوریڈا میں باقاعدہ ملازمت اختیار کر لی جہاں ایک انجینئر کی حیثیت سے ان کا کام جدید ترین راکٹوں کا قبل از وقت پرواز جائزہ لینااور انہیں اڑان بھرنے کی اجازت دینا یا نہ دینا ان کے فرائض میں شامل ہے۔حبا رحمانی خواتین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم دلوانے میں حق میں اور اس سلسلے میں کوئی عملی پروگرامز میں حصہ لے چکی ہیں۔ حبا رحمانی کامیابی کو سخت محنت اور مستقل مزاجی سے حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…