پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

سوئٹزرلینڈ کی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کو بڑی خوشخبری سنادی گئی

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

برن(این این آئی)سوئٹزرلینڈ میں عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے غیر ملکیوں کے لیے مقامی شہریت کے حصول میں نرمی کی منظوری دے دی ۔ غیر ملکیوں کی تیسری نسل کے لیے سوئس شہریت کے حصول میں اس نرمی کی ساٹھ فیصد ووٹروں نے حمایت کی۔سوئس نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ روز عوامی ریفرنڈم میں 60.4 فیصد سوئس رائے دہندگان نے اس امر کی حمایت کر دی کہ اس یورپی ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی تیسری نسل کے لیے مقامی شہریت کا حصول بہت آسان بنا دیا جانا چاہیے۔

اس طرح سوئٹزرلینڈ میں مقیم ایسے تارکین وطن کے لیے سوئس شہریت کا حصول بہت آسان بنا دینے کی منظوری دے دی گئی ہے، جن کی عمریں پچیس برس سے کم ہوں اور جن کے والدین اور والدین کے والدین بھی برسوں تک اس ملک میں قانونی طور پر رہائش پذیر رہے ہوں۔یوں تارکین وطن کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کے لیے شہریت کی درخواست دینے کا طریقہء کار بھی بہت آسان بنا دیا جائے گا۔ اب یہ عمل قانونی طور پر اتنا ہی تیز رفتار اور آسان ہو جائے گا، جتنا ان غیر ملکیوں کو سوئس شہریت دینے کا عمل، جنہوں نے سوئس شہریوں سے شادی کے بعد ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع اس ملک میں رہائش اختیار کی ہو۔سوئس نشریاتی ادارے کے مطابق اس ریفرنڈم میں کیے جانے والے عوامی فیصلے کے بعد اب سوئٹزرلینڈ میں یہ ممکن ہو جائے گا کہ جو نوجوان غیر ملکی تارکین وطن کی تیسری نسل کے طور پر اس ملک میں مقیم ہیں، انہیں تیز رفتاری سے سوئس شہریت دیتے ہوئے مقامی معاشرے کا حصہ بننے میں مدد دی جائے۔غیر ملکی تارکین وطن کی جس تیسری نسل کے لیے سوئس شہریت کا حصول بہت آسان بنا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وہ دیکھا جائے تو بظاہر صرف قریب 25 ہزار افراد کو متاثر کرے گا تاہم اگر غور کیا جائے تو اس کا سوئٹزرلینڈ کی مجموعی طور پر صرف 8.2 ملین کی آبادی پر اثر بہت دور رس اور گہرا ہو گا۔اس لیے کہ پورے یورپ میں سوئٹزرلینڈ کو اس حوالے سے بہت منفرد مقام حاصل ہے کہ اس کی مجموعی آبادی کا قریب ایک چوتھائی حصہ ایسے افراد پر مشتمل ہے، جو اس ملک میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ کسی دوسرے یورپی ملک میں یہ شرح اتنی زیادہ نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اسی ریفرنڈم میں سوئس باشندوں کی اکثریت نے ایک ایسی قانونی تجویز مسترد کر دی، جس کا مقصد ایک قدرے پیچیدہ طریقہء کار کے تحت ملکی ٹیکس سسٹم میں اصلاحات لانا تھا۔مجوزہ مالیاتی اور ٹیکس اصلاحات پر اپنی رائے دیتے ہوئے 59.1 فیصد سوئس ووٹروں نے اس مجوزہ نظام کی مخالفت کی، جس کے تحت ’دوہرے ٹریک والا‘ وہ ملکی ٹیکس سسٹم بدل دیا جانا تھا، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو پرکشش بناتے ہوئے غیر ملکی فرموں کو ٹیکسوں کی کم شرح کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں اپنے کاروبار شروع کرنے کی دعوت دیتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…