پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تیمور قتل کیس، ملزم پولیس اہلکار فائرنگ کے بعد کیا کرتا رہا؟۔۔۔سنسنی خیز انکشاف سامنے آگیا

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تیمورریاض قتل کیس میں اہم انکشاف، پولیس اہلکار سمیع اللہ فائرنگ کے بعد گاڑی کا پیچھے والا شیشہ اپنی گن سے توڑ کر لاش کا بغور جائزہ لینے کے بعد فرار ہوا۔مقتول تیمور ریاض کے بھائی نے سنسنی خیز انکشاف کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ جمعہ کے روز وفاقی پولیس اہلکار کی فائر نگ سے جاں بحق ہونے والے 26سالہ نوجوان تیمور ریاض کے بھائی نے نیا سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ

ایگل اسکواڈ کے اہلکار سمیع اللہ نے جان بوجھ کر بھائی کو قتل کیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ پولیس اہلکار نے اپنی گن مار کر گاڑی کا پچھلا شیشہ توڑا اور چیک کیا کہ مقتول زندہ ہے کہ نہیں، اس کے بعد گاڑی کو وقوعہ کی جگہ سے تھوڑا دور دھکیلا گیا ۔مقتول کے بھائی ساجد ریاض نے بتایا ہے کہ پولیس تحقیقات میں جان بوجھ کر ٹال مٹوئی سے کام لے رہی ہے،ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جبکہ واقعہ بالکل سیدھا ہے،ساجد ریاض نے کیس کے مرکزی ملزم پولیس اہلکار سمیع اللہ کے ساتھ پولیس اہلکار طارق کوواقعہ کا چشم دید گواہ قرار دیتے ہوئے قتل کے الزام سے بری قرار دیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ طارق واقعہ کا چشم دید گواہ ہے تاہم اس نے میرے بھائی پر گولی نہیں چلائی لہٰذا اسے مقدمہ میں گھسیٹنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس حوالے سے کیس کے انوسٹی گیشن آفیسر شوکت تھابل کا بھی یہی موقف سامنے آیا ہے کہ فائرنگ سمیع اللہ نے کی ہے جس کی وجہ سے باقی پولیس اہلکار جو ڈیوٹی پر کار سرکار پر مامور تھے انکو موردِالزام نہیں کیا جا سکتا جبکہ طارق کو شامل تفتیش ضرور رکھا جائے گا، انوسٹی گیشن آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ ملزم پولیس اہلکار سمیع اللہ کی گن جس سے فائرنگ ہوئی تھی کو فرانزک رپورٹ کے لئے لیبارٹری بھجوایا گیا ہے جس کی رپورٹ جلد آنے کے بعد معاملہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔قبل ازیں ضلعی عدالت اسلام آباد نے تیمور ریاض قتل کیس میں گرفتار پولیس اہلکار سمیت اللہ کے جسمانی ریمانڈ میں 3روز کی مزید توسیع کر دی۔واضح رہے کہ ملزم نے ناکے پرنہ رکنے کے باعث فائرنگ کر کے 27سالہ تیمور ریاض کو قتل کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…