بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں روس اور ایران کیا کررہے ہیں؟امریکی جنرل نے سنگین الزام عائد کردیا

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

کابل (آئی این پی)افغانستان میں تعینات امریکی اور عالمی فوج کے کماندار جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر مکمل نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور عین ممکن ہے کہ اس جائزے سے امریکہ کو اس تکلیف دہ اتحاد کے لیے کسی نئی حکمتِ عملی کی راہ مل جائے۔جنرل نکلسن نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے پیچیدہ رشتوں کے بارے میں بہترین نتیجے پر ایک مکمل جائزے کے بعد ہی پہنچا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جیمز میٹیس اور وائٹ ہاس کے ساتھ ان کی جو بات چیت ہو گی اس میں پاکستان کے ساتھ رشتوں پر بات کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ افغانستان میں عالمی اور امریکی فوج کی قیادت کرنے والے امریکی جنرل جان نکلسن کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے تئیں سخت پالیسیاں اپنا سکتی ہے۔ اس سے قبل افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فوجوں کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ انھیں طالبان کے ساتھ جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے مزید چند ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔جنرل جان نکلسن نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ ان کے پاس انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے کافی فوجیں ہیں۔تاہم انھوں نے زور دیا کہ انھیں افغان فوج کہ تربیت میں مدد کے لیے اضافی فوجی درکار ہیں۔ انھوں نے روس اور ایران پر افغانستان میں نیٹو کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔جمعرات کو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے جنرل نکلسن نے کہا کہ ہمیں چند ہزار کی کمی کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کے سامنے رکھ چکے ہیں۔امریکہ کی طالبان کے خلاف جنگی آپریشن سنہ 2014 میں باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگئے تھے تاہم خصوصی فوجی دستوں کی جانب سے افغان فوجیوں کو مدد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ افغان فوجوں کو گذشتہ دو برسوں میں بھاری جانی نقصان کا سامنا رہا ہے۔

جنرل نکلسن نے ملک کی حالیہ صورتحال کو جنگی توقف کے طور پر بیان کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیمانہ حکومت کے حق میں ہے۔انھوں نے بیرونی عناصر خاص طور پر روس، پاکستان اور ایران کے اثرورسوخ کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اثرورسوخ کے باعث طالبان کی مدد اور انھیں قانونی حیثیت دی جارہی ہے اور افغانستان میں استحکام کے لیے افغان کوششوں کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…