بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ سکیورٹی خدشات کے باعث مزید خوف وہراس کا شکار،بوکھلاہٹ میں ایسے اقدام کا خدشہ کے سب حیران رہ گئے

datetime 9  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکی ویزا کے حصول کے خواہش مند افراد پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ کڑی شرائط عائد کرنے کی تیاریاں بھی کرلی گئیں، امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری جان کیلی کے مطابق امریکی سفارت خانے مستقبل میں ویزا کی درخواست دینے والے افراد سے ان

کے سوشل میڈیا اکائو نٹس کے پاس ورڈ طلب کرسکتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکریٹری جان کیلی کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کے لیے مستقبل میں یہ قدم اٹھایا جاسکتا ہے، تاکہ ممکنہ سیکیورٹی رسک کا خدشہ ثابت ہونے والے افراد کی نشاندہی ممکن ہوسکے۔سیکریٹری کے مطابق 7 مسلم اکثریتی ممالک (ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن) سے تعلق رکھنے والے مسافروں پر اس شرط کے عملدرآمد کے لیے مشاورت جاری ہے کیونکہ ان ممالک میں بیک گرانڈ اسکریننگ کا عمل بہت کمزور ہے۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں جان کیلی نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ان کا محکمہ کچھ جدید اور اضافی اسکریننگ کے طریقوں کی تلاش میں مصروف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شاید لوگوں کے سوشل میڈیا پاس ورڈز کی ضرورت پڑسکتی ہے کیونکہ ان سات

ممالک کے افراد کی جانچ کرنا بہت مشکل ہے، اگر یہ امریکا میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ یہ افراد کون سی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں، جس کے لیے ہمیں ان کے اکانٹس کے پاس ورڈز کی ضرورت ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر لوگ اس تعاون کے لیے تیار نہیں تو

وہ امریکا میں داخل نہیں ہوسکتے۔جان کیلی کے مطابق اب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم مستقبل میں اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت ضرور کیا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کوئی واقعی امریکا میں آنا چاہتا ہے تو وہ ہمارے ساتھ تعاون ضرور کرے گا ورنہ اس قطار میں بہت لوگ موجود ہیں۔امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری کا یہ بیان

ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئے امریکی صدر کا متنازع ایگزیکٹیو آرڈر دنیا بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔امریکی عدالت 7 مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی امریکا آمد کے اس حکم کو عارضی طور پر معطل کرچکی ہے تاہم امریکی محکمہ انصاف پرامید ہے کہ یہ پابندی دوبارہ بحال ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…