اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )2016 ءمیں موبائل فون سم کارڈ کے وجود کو 25 برس مکمل ہوجائیں گے۔ یوں بھاری بھرکم موبائل فون سیٹوں سے ہماری جان چھڑانے والا یہ سبسکرائبر آئڈینٹٹی ماڈیول (SIM) آئندہ برس سلور جوبلی منائے گا، مگر ممکنہ طور پر اسے گولڈن جوبلی منانا نصیب نہیں ہوگا۔ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق بہت جلد یہ انقلابی مائیکرو چِپ قصہ پارینہ بن جائے گی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے مستقبل قریب میں سم کارڈ کا کام پاس ورڈ سے لیا جائے گا، اور ہم موبائل فون آپریٹرزکی سروس استعمال کرنے کے لیے اسی طرح لاگ اِن ہوں گے جیسے آن لائن کسی اکاو¿نٹ تک رسائی کے لیے ہوتے ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کے کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر عبور رکھنے والے ماہرین کو یقین ہے کہ موبائل فون سم کے دن گنے جاچکے ہیں۔ ڈاکٹر مارکس کے مطابق سم کا متبادل لاگ اِن آئی ڈی اور پاس ورڈ کی صورت میں بہت پہلے سے موجود ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ہم وائی فائی تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں سم کا کام تھری ڈی بارکوڈز سے بھی لیا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ اسمارٹ فونز اور کیمروں کے لیے زیادہ موزوں ہوگا جن میں ایک ایپ تھری ڈی بارکوڈز میں چھپی ہوئی معلومات کو پڑھ کر فون کال کو ممکن بناسکے گی۔ماہرین کے مطابق سم کارڈ دراصل اس وقت تک ہی مفید تھا جب موبائل فون سیٹ بھاری بھرکم ہوتے تھے۔ ا±س زمانے میں موبائل فون عام طور پرگاڑیوں میں لگے ہوتے تھے، مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب موبائل فون مختصر اور کم وزن ہونے کے ساتھ ساتھ منی کمپیوٹر کی صورت اختیار کرگئے ہیں، جن کے ذریعے ای میل اکاو¿نٹ تک رسائی، سوشل نیٹ ورکنگ اور آن لائن خریداری وغیرہ تک سب کچھ ممکن ہے۔ڈاکٹر مارکس کے خیال میں سم کو پاس ورڈ یا پھر کسی سوفٹ ویئر سے بدل دینے سے صارفین کے لیے بہت آسانی ہوجائے گی۔ وہ ایک ہی موبائل سیٹ پر مختلف کمپنیوں کی سروس استعمال کرسکیں گے۔ انھیں بس پاس ورڈ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ موبائل میں پاس ورڈ ڈالیں گے اور اس کمپنی کی سروس فعال ہوجائے گی۔ اس طرح انھیں ایک کمپنی سے دوسری کمپنی کے نیٹ ورک پر منتقل ہونے کے موجودہ، پیچیدہ طریقہ کار سے بھی نجات مل جائے گی۔ماہرین کے مطابق سم کارڈ سیکیورٹی رسک ہیں۔ ان کے ذریعے ڈیٹا بہ آسانی چ±رایا جاسکتا ہے۔ امریکا کے جاسوس ادارے دیگر ذرائع کے علاوہ سم کارڈز کو بھی جاسوسی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ سم کی پاس ورڈ سے تبدیلی کی صورت میں موبائل فون زیادہ محفوظ ہوجائیں گے۔ کیمبرج یونی ورسٹی کے لیکچرار کا کہنا ہے کہ جدید کرپٹوگرافک ٹیکنیکس مختصر پاس ورڈ کی طالب ہوتی ہیں۔ ان کے ذریعے محض پانچ اعداد پر مشتمل پاس ورڈ بھی اتنا مضبوط ہے کہ اسے جاسوس انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سپرکمپیوٹر بھی نہیں توڑ سکتے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
متحدہ عرب امارات نے 3 ممالک کیلیے نئے ویزوں کا اجرا روک دیا؛ سفری پابندیاں عائد
-
تلوم اور تلوم سے آگے
-
ایران اور روس کا 25 ارب ڈالر کا بڑا جوہری معاہدہ، دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
-
ویرات کوہلی نے بھارت کیوں چھوڑا؟ ساتھی کھلاڑی کا انکشاف
-
آسٹریلیا بونڈی بیچ کا مسلمان ہیرو گرفتار؟ والد پر حملے کے الزام نے سب کو حیران کردیا
-
راولپنڈی،بلیک میل شادی شدہ خاتون سے جنسی زیادتی، رقم بٹورنے والا شخص گرفتار
-
اٹلی میں 10 ہزار 500 نوکریاں! پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم کرکے پٹرولیم لیوی میں بڑا اضافہ کردیا
-
فی تولہ سونے کی قیمت میں آج بڑی کمی ریکارڈ
-
تنخواہوں میں 10تا15فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے
-
خصوصی سولر اسکیم ! حکومت نے فلیٹوں میں رہنے والوں کی بڑی مشکل آسان کردی
-
حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان کردیا
-
افغان شہریوں کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے والے نادرا کے 4اہلکار گرفتار
-
مومنہ اقبال میری بیوی کو طلاق لینے پر اکساتی رہی،ثاقب چدھڑ



















































